یورپ، دباؤ کے باوجود ایران جوہری معاہدے کی حمایت جاری رکھے گا: مغرینی

تہران، 16 فروری، ارنا – یورپی یونین کی چیف خارجہ پالیسی نے کہا ہے کہ گزشتہ سال سے ایران جوہری معاہدے کے خلاف دباؤ میں اضافہ ہوگیا جبکہ اگر تین یورپی ممالک کی کوششیں نہ ہوتیں تو یہ معاہدہ ختم ہوگیا ہوتا.

یہ بات "فیڈریکا مغرینی" نے گزشتہ روز میونخ سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے یورپی یونین اور تین یورپی ملکوں کی جانب ایران جوہری معاہدے کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران اس عالمی معاہدے کو درپیش دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے.
خاتون یورپی رہنما نے کہا کہ ہمیں یقین ہیں کہ اگر یورپی یونین، جرمنی، برطانیہ اور فرانس کی کوششیں نہ ہوتیں تو گزشتہ سال یہ معاہدہ ختم ہوگیا ہوتا.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اور دیگر یورپی طاقتیں تمام دباؤ کے باوجود ایران جوہری معاہدے کی حمایت کو جاری رکھیں گے.
یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی غیرقانونی علیحدگی کے بعد، یورپی یونین نے اس کے خلاف مؤقف اپنایا اور اس نے ایران کے ساتھ تجارت کو جاری رکھنے کے لئے موثر طریقہ اپنانے کا اعلان کر رکھا.
مخصوص مالیاتی میکنزم کے تحت جسے مختصر حرفوں میں SPV کہا جاتا ہے، ایران کے مرکزی بینک اور یورپی ممالک کے درمیان براہ راست تعاون قائم ہوگا جس کی مدد سے بینکاری اور تجارت سے متعلق مشترکہ سرگرمیوں کو ضمانت ملے گی.
موجودہ مالیاتی میکنزم جس کا عنوان INSTEX ہے، کے ذریعے ایران سے متعلق امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرنا ہے.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@