ایرانی سنیما کی چالیس سالہ کامیابی، 4 ہزار عالمی ایوارڈز حاصل کئے

تہران، 16 فروری، ارنا – 1979 میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایرانی سنیما نے بھی اپنی ترقی کے نئے سفر کا آغاز کیا اور گزشتہ 40 سالوں میں نہ صرف قابل قدر خدمات سرانجام دیں بلکہ اسے مختلف علاقائی اور عالمی میلوں میں 3745 ایوارڈز سے بھی نوازا گیا.

ایرانی سنیما میں بنائی جانے والی فلموں نے عالمی سطح پر منعقدہ 35310 تقاریب اور مقابلوں میں حصہ لیا جہاں فلمی اور سنیما کے شعبوں میں ایرانیوں کو 3745 انعاملات دئے گئے.
اسلامی انقلاب سے پہلے ایرانی سنیما نے صرف 152 عالمی ایوارڈز اپنے نام کرلیا مگر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد 35310 عالمی فلم میلوں میں موجودگی کے ساتھ 3745 ایوارڈز حاصل کرسکا.
ایرانی سنیما اسلامی انقلاب کے 40 سالوں کے دوران مختلف بین الاقوامی فلم میلے سمیت آسکر، کینز، برلن، ونیز اور لوکارنو میں شاندار پذیرائی ہوگیا جسے ایک بڑی فتح کی علامت ہے.
اسلامی انقلاب سے پہلے ایرانی فلموں کی موضوعات بے بنیاد، کھوکھلاپن اور فحش کی مبنی پر تھی لہذا بین الاقوامی میدان میں ایرانی سنیما کی موجودگی بہت ہی محدود تھی.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی سنیما نے 2016 کے دوران بین الاقوامی فلم میلوں میں اپنی شاندار موجودگی کے ساتھ 366 ایوارڈز حاصل کرلی مگر اسلامی انقلاب سے پہلے 40 سالوں کے دوران ان کے ایوارڈز کی تعداد صرف 152 تھی.
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد 1990 کو نامور ایرانی فلمساز مرحوم "عباس کیارستمی" پہلے شخص تھا جن کی بنائی گئی " Close-Up " نامی فلم عالمی مونٹریال فلم میلے میں ایوارڈ سے نوازا گیا.
مرحوم عباس کیارستمی کی فلم اسی دوران میں عالمی دس فلموں میں شامل کردی گئی اس کے بعد دوسری ایرانی فلم " The Cyclist " بھی اٹلی میں ریمینی فلم فیسٹیول میں شاندار پذیرائی ہوئی.
1992 کو دوسری بار مرحوم کیارستمی کی بنائی گئی " Life, and Nothing More " فلم نے کینز فلم فیسٹیول میں سب سے بہترین ایوارڈ اپنے نام کرلیا لہذا انہوں نے عالمی میدان میں بہت ہی شہرت ملی.
اس سال میں ایرانی فلمساز "مسعود کیمیایی" کی بنائی گئی " Snake Fang" فلم مونٹریال فلم میلے میں بہترین فلم کے طور پر ایوارڈ حاصل کر لیا اور 1994 کو دوسرے ایرانی ڈائریکٹر "امیر نادری" کی بنائی گئی " Water, wind, soil" فلم فرانسیسی فلم فیسٹیول میں بہترین فلم کے طور منتخب ہوگئی.
1995 کو مرحوم عباس کیارستمی نے ایک بار پھر اپنی " The White Balloon" فلم کے ساتھ کن فلم میلے کے ایوارڈ کو اپنے نام کرلیا.
1996 کو ایرانی فلمساز "پرویز شہبازی" کی بنائی گئی " South traveler" فلم ٹوکیو فلم فیسٹیول میں سب سے بہترین ایوارڈ سے نواز کیا گیا.
1998 کو ایرانی سنیما کا ترقی کا دور تھا کیونکہ مرحوم عباس کیارستمی کی بنائی گئی " Taste of Cherry"فلم کینز فلم فیسٹیول میں گولڈ پام (Palme d'Or) سے عالمی شہرت ملی.
دوسرے ایرانی فلمسازوں "مجید مجیدی اور ناصر تقوایی" کی بنائی گئی "Children of Heaven اور Captain Khorshid" کی فلمیں بالترتیب مونٹریال اور لوکارنو فلم میلوں میں بہترین ایوارڈز کو حاصل کرسکا.
1999 کو مجید مجیدی کی دوسری فلم " The Color of Paradise" مونٹریال فلم میلے میں شاندار پذیرائی ہوئی.
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایرانی فلمیں، فلمساز اور اداکاروں کی جانب سے مختلف فلم فیسٹیولز میں متعدد ایوارڈز حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے.
حالیہ سالوں کے دوران نامور ایرانی فلمساز بالخصوص "اصغر فرہادی، رضا ناجی، شہرام مکری، رخشان بنی اعتماد، محمد رسول اف اور وحید جلیلوند" نے امریکہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے فلم فیسٹیول میں ایوارڈز سے نواز گئے ہیں.
یاد رہے کہ نامور ایرانی فلمساز "اصغر فرہادی" نے دوبار کے لئے امریکہ میں آسکر نمائش میں غیرملکی زبان کی بہترین فلم کے ایوارڈز اپنے نام کر لیا.
اس بات پر توجہ مرکوز رکھنا چاہئیے کہ ایران کے فلموں میں انسانی اور اسلامی معیار پر خاص توجہ دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایرانی فلمیں دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@