وارسا کانفرنس کا اختتامی بیان اس کی شکست کا ثبوت ہے: ایران

تہران، 15 فروری، ارنا - اسلامی جہوریہ ایران نے امریکہ اور پولینڈ کی میزبانی میں ہونے والی وارسا کانفرنس کے اختتامی بیان کو اس کی شکست کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے.

ترجمان دفترخارجہ 'بہرام قاسمی' نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ وارسا کانفرنس کا اختتامی بیان صرف دو ممالک کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے وارسا کانفرنس کے ذریعے ایران کے خلاف نئے اتحاد تشکیل دینے کی سرتوڑ کوششیں کیں مگر اس کانفرنس میں چھوٹی سطح کے وفود کی شرکت نے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا.
انہوں نے کہا کہ حتی کہ وارسا کانفرنس میں شریک مندوبین نے بھی ایران مخالف فیصلہ کرنے کی مخالفت کردی.
قاسمی نے مزید کہا کہ مشرق وسطی میں امن و سلامتی کے عنوان سے ہونے والی ایسی کانفرنس کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے جب خطے میں اہم کردار ادا کرنے والے ممالک ایران، ترکی، لبنان، شام، عراق اور فلسطین اس میں شامل نہ ہوں جبکہ دنیا کے اہم ممالک روس، چین اور دیگر یورپی ممالک نے تو اس کانفرنس میں حصہ ہی نہیں لیا.
ترجمان نے کہا کہ امریکہ ایک طرف مشرق وسطی میں امن و امان کی کانفرنس کی میزبانی کرتا ہے جبکہ دوسری جانب عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکل جاتا ہے.
بہرام قاسمی نے مزید کہا کہ امریکہ کی امتیازی اور جارحانہ پالیسی کی وجہ سے آج علاقائی اقوام دہشتگردی، انتہاپسندی، غربت، جنگ اور بدامنی جیسے سنگین مسائل کا شکار ہیں.
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کی جارحانہ پالیسی کے باوجود خطے میں قیام امن و استحکام اور یہاں سے اغیار کو نکالنے کے لئے مزاحمت اور لڑائی جاری رہے گی.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@