دہشتگردی کیخلاف اجتماعی تعاون کا مقصد شام میں امن کا قیام ہے: روحانی

تہران، 15 فروری، ارنا - صدر مملکت اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ ایران، روس اور ترکی کے درمیان دہشتگردی کے خلاف تعاون کا مقصد شام میں امن کے قیام کو یقینی بنانا ہے.

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ''حسن روحانی'' نے گزشتہ روز شام سے متعلق سہ فریقی سربراہی اجلاس کے اختتام پر روسی اور ترک صدور کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا.
روسی حکومت کی میزبانی میں شام سے متعلق سہ فریقی سربراہی اجلاس گزشتہ روز روسی شہر سوچی میں منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر حسن روحانی، ولادیمیر پیوٹن اور رجب طیب اردوان شریک ہوئے.
اس نشست کا اگلا دورہ ترکی کی میزبانی میں منعقد ہوگا.
ایرانی صدر نے غیرملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ شام کے ہمسایہ ممالک بالخصوص ترکی کی سلامتی کا تحفظ ناگزیر ہے.
انہوں نے اپنے روسی اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات موثر اور مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام میں امن و سلامتی کے قیام، نئے آئین کے نفاذ، جمہوری حکومت کی مضبوطی، پناہ گزینوں کی واپسی اور شام کی تعمیر نو ہمارے مقاصد میں شامل ہیں.
ایرانی صدر نے بتایا کہ ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ امریکہ داعش کے دہشتگردوں کے ایک حصے کو افغانستان منتقل کررہا ہے جس سے وسطی ایشیا اور دیگر خطے کو شدید خطرات لاحق ہوں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق اگر امریکہ شام سے اپنی فوج واپس بلا بھی لے تو شام میں امریکی مداخلت کا سلسلہ پھر بھی جاری رہے گا.
ڈاکٹر روحانی نے بتایا کہ امریکہ، شام سے متعلق کوئی بھی فیصلہ شامی عوام کو ہی کرنے دے، وہ اس بات کو سمجھے کہ کُرد بھی شامی قوم کا ایک حصہ ہے لہذا شام میں دو نہیں ایک ہی قوم ہے اسی لئے شام کی جغرافیائی سالمیت کا ہر حال میں احترام کرنا ہوگا.
انہوں نے کہا کہ شام میں صہیونی مداخلت اور جارحیت وہاں کے عوام اور دیگر علاقائی قوموں کے لئے نہایت قابل تشویش بات ہے، صہیونی حکمران جب چاہیں شام اور لبنان کی فضائی حدود میں طیاروں کے ذریعے بمباری کرواتے ہیں اور بدقسمتی سے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے ایسی مسلسل جارحیت پر خاموش ہیں.
ڈاکٹر روحانی نے مزید کہا کہ دہشتگردی خطے کے لئے اصل خطرہ ہے لہذا دہشتگردوں کو جواب دینا چاہئے، ہم نہیں سمجھتیں کہ ترکی کو شام کی آئندہ حکومت اور کردوں سے کوئی خدشہ ہو، ترکی کو دہشتگردوں سے تشویش ہے لہذا تمام دہشتگردوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کرنی ہوگی تاہم شام کی سالمیت اور خودمختاری کا بھی احترام کرنا ہوگا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@