ایران مذاکرات کا حامی، دباؤ کو مسترد کرتے ہیں: صدر روحانی

تہران، 13 فروری، ارنا – صدر مملکت اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ ہم ہمیشہ سے مذاکرات اور بات چیت کے حامی ہیں لیکن ہم پر کوئی بات مسلط کرنی ہو یا دباؤ ڈالنا ہو تو ایران ایسے تمام اقدامات کو مسترد کرتا ہے.

ڈاکٹر روحانی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کو ایرانی آئین، قانون اور عالمی قوانین کا احترام کرتے ہوئے ہمارے ساتھ کسی مخصوص معالمے پر بات چیت کرنی ہو تو ایران ہمیشہ تیار ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق پُرامن بات چیت کے حق میں ہے.
ڈاکٹر روحانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور حقوق کے خلاف کسی دباؤ اور جبر کے سامنے نہیں جھکے گا.
انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام گزشتہ 40 سالوں سے صحیح سمت پر آگے کر رہے ہیں اور یوم آزادی کی ریلیوں کا پیغام یہ تھا کہ بڑی طاقتیں سمیت امریکہ کی سازشیں ایرانی عوام کے مستحکم عزم پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتی ہے.
ایرانی صدر نے کہا کہ دشمنوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی عوام کو مایوس کرنے کے لئے بہت ہی کوششیں کرتے ہوئے ہماری قوم پر مختلف دباؤ ڈال دیا جس کی وجہ سے بعض مسائل اور مشکلات پیدا کیا گیا.
انہوں ںے کہا کہ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران بعض افراد شہید اور زخمی ہوگئے مگر ہم نے راسخ عزم کے ساتھ مزاحمت کرکے اپنے ملک کی آزادی، خودمختاری اور قانونی حکمرانی کا دفاع کیا.
صدر روحانی نے ایرانی قوم کے خلاف دشمن کے معیشتی اور نفسیاتی جنگ پر زور دیا اور کہا کہ یہ قوم ایک بار پھر اپنی خودمختاری اور عزت کا تحفظ کرکے ہرگز دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا کیونکہ ہتھیار ڈالنا ختم نہیں ہوگا.
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارے عوام امریکہ کے سامنے سر جھکائے تو ہمیشہ کے لئے ملکی وقار اور خودمختاری کو چھوڑنا چاہئیے.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@