ایران میں اسلامی انقلاب کے تابندہ 40 برس

اسلام آباد، 13 فروری، ارنا - پاکستانی کالم نگار 'محمد اسلم خان' کا مضمون پیش نظر ہے جس کا عنوان ایران میں اسلامی انقلاب کے تابندہ 40 برس، ہے.

اردو اخبار 'نوائے وقت' میں شائع ہونے والے اس مضمون کے مطابق، ''اسرائیل مردہ باد اور امریکہ مردہ باد'' کا فلک شگاف اور ولولہ انگیز نعرہ انقلاب ایران کا نصب العین اور نظریہ بن کرچالیس سال گزرنے کے بعد آج بھی اسی قوت اور جذبے سے گونج رہا ہے اور برسرپیکارہے جس نے ایران کا اڑھائی ہزار سالہ بادشاہی نظام زمین بوس کردیاتھا. امریکہ اور اس کے حواری آج بھی اسی توجہ سے ہرآن کسی نہ کسی سازش کے تانے بانے بن کر ایرانی عوام کے طرز زندگی کو بدل ڈالنے کی گھات میں ہیں. صدیوں پرانی فارس کی پرشکوہ تاریخ و تہذیب ، ایرانی قوم پرستی اور اسلام سے وابستگی کے تفاخر کے ساتھ انقلابی ایرانی عالمی سامراج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کو تیار نہیں.منفرد نثر نگار مختار مسعود بتاتے ہیں کہ عہد قدیم کے ایران میں بچوں کو 5 سال سے 20 برس تک شہسواری‘ تیراندازی اور راست گوئی یعنی کہ سچ بولنے کی تربیت دی جاتی تھی جبکہ حکمرانوں کو دکھلایا جاتا تھا کہ دشمن کو دوست بناؤ’ گمراہ کو راستہ دکھلاؤ اور بے علم کو علم سکھلاؤ اس کی عزت تمہاری دروازے ڈھونڈتی پھرے گی اور عظمت تم پر از خود نچھاور ہوگی یہ وہ راستہ تھا جس پر چل کر قدیم فارس جہان تاب ہوا ماہ تاب ہوا اسی طرح جناب مختار مسعود نے اسباب زوال فارس پر بھی کما حقہ روشنی ڈالی ہے کہ ظلم ہو اور انصاف ناپید ہو جائے ’ رشوت چلے اور حقدار اپنے حق کیلئے گلی کوچوں میں دربدر ہو جائے ‘ اخلاق پست اور صحت تباہ ہوجائے’ عوامِ جمہوری لذات میں کھو کر مستقبل سے غافل ہو جائیں’ اس کے بعد کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی وہ قوم خود ہی اپنی سب سے بڑی دشمن بن جاتی ہے. کیا اس آئینے میں ہمیں پاکستانی قوم کی شکل و صورت نہیں دکھائی دیتی’ ایران اور ایرانی انقلاب کو سمجھنے کے لئے جناب مختار مسعود کی کتاب ‘‘لوحِ ایام’’ آج بھی شاہ کلید کی اہمیت رکھتی ہے. آیت اللہ روح اللہ خمینی نے عالمی سامراج کے خلاف جو جدوجہد شروع کی تھی، وہ جاری وساری ہے اور حتمی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے. ایران کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کے اعلان کرنے والوں کی اپنی حالت یہ ہے کہ افغانستان سے طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ کر پسپائی کی رسوائی کا سامنا کررہے ہیں اور صیہونی تمام تر عالمی دہشت گردی، دھونس، دھاندلی کے باوجود نہتے فلسطینیوں پر آگ وخون کی بارش برسا کر دنیا کی لعنتیں سمیٹ رہے ہیں. امریکی آشیر باد سے حکمران رضاشاہ پہلوی کا تختہ الٹنا دراصل عالمی سامراج کا تختہ الٹنا تھا جسے امریکی آج تک نہیں بھلا پائے. جدیدیت کے نام پر اسلام کو مٹادینے کے روئیے، بے لباس مغربی ثقافت کو مسلط کرنے اور سیکولر ازم کی موت انقلاب ایران بنا تھا قْم کے مدرسے میں چٹائی پر بیٹھا امام خمینی اس انقلاب کا رہبر و رہنما تھا. اسی انقلاب کی جڑوں میں سماجی ناانصافی کا وہ زہر رچا ہوا تھا جس نے عوام کو شاہ کا تختہ الٹ دینے کی جرات دی. کٹھ پتلی حکمران کو اٹھاکر باہر پھینک کر ثابت کر دیا کہ ایرانی آزاد اور خود مختار قوم ہیں، ہمارا اپنا نظریہ، ثقافت اور تہذیب ہے. پہلوی سلطنت یا دودمان پہلوی خاندان کی حکومت ایران میں 1925 سے 1979تک رہی جسے انقلاب ایران کی تیز آندھی نے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا. محمد رضا شاہ پہلوی اس خاندان کا آخری چراغ تھا، جو بجھ گیا. پہلوی احمد شاہ قجار کو محروم کرکے برسراقتدار آیاتھا جو برطانوی اور روسی افواج کو نہ روک پایا تھا. فوجی بغاوت نے اس کو کمزور کردیاتھا. وہ خود فرانس میں تھا جب وہ اقتدار سے محروم ہوا. 12دسمبر1925ء کو نیشنل سینٹ جو مجلس کے نام سے معروف تھی، نے احمد شاہ قجار کو معزول کرکے نوجوان رضا خان کو نیا بادشاہ مقرر کردیا تھا جس نے اقتدار میں آتے ہی سلطنت کا نام ’کشور شاہنشاہی ایران‘ رکھ دیا تھا. برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے 1953 میں ڈاکٹر مصدق کو فوجی بغاوت کے ذریعے برطرف کرکے محمد رضا پہلوی مطلق العنان حکمران بن گیا تھا. یہ سرد جنگ کا دور تھا اور شاہ مغربی بلاک کے دسترخوانی قبیلے میں شامل تھا. 1978ء میں عوامی انقلاب نے شاہ کو جھکنے اور مستعفی ہونے پر مجبور کردیا اور وہ جنوری 1979ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ جلاوطن ہوگیا. 11 فروری1979کو اسلامی جمہوریہ ایران کے منصہ شہود پر آنے سے اڑھائی ہزار سالہ بادشاہی انجام کو پہنچی. سید روح اللہ موسوی خمینی وہ مرد انقلاب تھے جنہوں نے ایرانیوں کو اسلامی انقلاب کی راہ دکھائی اور پھر انہیں منزل تک پہنچایا. وہ بابائے انقلاب ایران ہیں. وہ 24ستمبر1902ء میں پیدا ہوئے. ان کا تعلق ایران کے 31 صوبوں میں سے ایک ’استان مرکزی‘ سے تھا. اس کا دارلحکومت اراک ہے. ان کی والدہ کا نام حاجیہ آغا خانم ہے. والد کے قتل کے وقت وہ پانچ ماہ کے تھے. ان کی والدہ اور خالہ نے ان کی پرورش کی. چھ سال کی عمر میں روح اللہ نے قرآن اور بنیادی فارسی تعلیم حاصل شروع کی تھی. امام خمینی کے دادا سید احمد موسوی ہندی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ریاست اودھ کے دارالحکومت لکھنؤ کے قریب کنتور میں پیدا ہوئے تھے اور 1830ء میں حضرت امام علی کے نجف میں مزارکی زیارت کے لئے آئے تھے جس کے بعد ان کا دل واپسی پر آمادہ نہ ہوا اور وہ یہی کے ہوکر رہ گئے. ایران میں رہتے ہوئے بھی ان کے نام کے ساتھ ہندی کا لفظ ان کی شناخت بنارہا. خمینی نے غزلوں میں اپنا قلمی نام ہندی ہی استعمال کیا. یہ روایت بھی ہے کہ سید احمد موسوی ہندی لکھنو سے نہیں بلکہ کشمیر سے آئے تھے. جنگ عظیم اول کے بعد روح اللہ کی مزید تعلیم کے لئے اصفہان کی اسلامی درسگاہ کا اہتمام ہوا لیکن وہ اپنی دلچسپی کی بناء پر اراک تشریف لے گئے جہاں انہیں آیت اللہ عبدالکریم حائری یزدی کی شفقت میسرآئی جو قم کی اہم اسلامی درسگارہ کے بانی ہیں. قم شیعہ فقہ کی عظیم درسگاہ ہے. 1920ء میں روح اللہ اراک میں تحصیل علم سے وابستہ ہوئے اور ان کے استاد آیت اللہ عبدالکریم حائری یزدی نے اگلے ہی سال یہ درسگاہ قم کے مقدس تصور ہونے والے شہر منتقل کردی جہاں انہوں نے اسلامی شریعہ (قانون) اور اصول قانون کی تعلیم پائی. اس عرصہ میں شاعری اور فلسفے سے بھی ان کا دلی میلان ہوگیا. جاوید آقا مالکی طبریزی اور رفیع قزوینی نے انہیں اس شعبے میں پیاس بھجانے کے مواقع فراہم کئے. ان پر ایک اور استاد مرزا محمد علی شاہ آبادی نے بھی گہرا اثر ڈالا جبکہ ملاصدرا جو صدرالمتالھین کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، اور ابن عربی جیسے صوفیاء کی تعلیمات کا بھی ان پر گہرا اثر ہوا. امام خمینی نے یونانی فلسفہ کا بھی گہرائی سے مطالعہ کیا اور ارسطواورافلاطون کو وہ منطق کا بانی تصور کرتے تھے. انہوں نے نجف اور قم میں لیکچرار کے طورپر کام کیا اور جلد ہی اہل تشیع کے معروف علماء میں ان کا شمار ہونے لگا. وہ سیاسی فلسفہ، اسلامی تاریخ اور اخلاقیات کے استاد کے طورپر بھی مشہور ہوئے.ستائیس سالہ روح اللہ نے ملا صدراور عرفان کے عنوانات پر نجی حلقوں میں واعظ وتبلیغ شروع کی. 1928ء ان کی پہلی تصنیف دعا الصحر منظرعام پر آئی. جنوری 1963ء میں سفید انقلاب کے شاہ کے اقدام کے خلاف22 جنوری1963ء کو امام خمینی نے فتوی جاری کیا اور اس میں شاہ کے ارادوں کو شدید ترین الفاظ میں مخالفت کی. دو روز بعد ہی شاہ نے قم پر فوجی کاروائی کرڈالی اور علماء کے خلاف سخت ترین الفاظ استعمال کئے. (جاری) 274** ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@