جوہری مذاکرات میں ایرانی سفارتکاروں کی ثابت قدمی انقلابی ثمرات قرار

نیو یارک، 9 فروری، ارنا - کینیڈین یونیورسٹی 'کارلٹن' کے اسلامیات کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ جوہری مذاکرات میں ایرانی سفارتکاروں کی ثابت قدمی اسلامی انقلاب کے ثمرات کی علامت ہے.

ان خیالات کا اظہار پروفیسر ''کریم حسن کریم'' جو اس وقت کارلٹن یونیورسٹی کے اسلامی اسٹڈیز سنٹر کے سربراہ بھی ہیں، نے ارنا نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا.
ان کا کہنا تھا کہ اسلامی انقلاب کا مقصد ایران کو مغربی معاشرے بنانے کی خواہش کو روکنا تھا، مغرب نے ایران کے انقلاب کو پرتشدد ظاہر کرتا تھا، اس کا مقصد یہ تھا کہ ایرانی عوام کو مشتعل افراد دیکھائے.
پروفیسر کریم نے کہا کہ جب میں امریکہ میں اسلامیات پڑھ رہا تھا تو ایران میں انقلاب آیا، مجھے بہت حیرت ہوئی کہ یہ انقلاب اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا، جبکہ ایرانی عوام نے مصائب اور مشکلات کو برداشت کرکے اسلامی انقلاب کو کامیاب بنایا.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب دنیا میں ایک منفرد انقلاب ہے جس کو کامیاب بنانے میں دوسری تحریکوں کی طرح خون نہیں بہایا گیا، اس انقلاب نے دنیا بالخصوص عرب ممالک میں لرزہ تاری کیا کیونکہ عرب حکمرانوں کو یہ خوف ہوا تھا کہ کہیں ان کے عوام ایرانیوں کے راستے پر چلے تو کہ وہ آزادی اور خودمختاری حاصل کرسکتے ہیں.
کارلٹن یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ انقلاب کے بعد ان 40 سال میں ایرانی قوم کو جو سب سے بڑا چلینج کا سامنا ہوا وہ پابندیوں تھیں، اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے براہ راست عوام کو نشانہ بنایا گیا ہے.
انہوں نے کہا کہ پابندیوں سے امریکہ کی ایران دشمنی نظر آتی ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ عالمی برادری بھی سیاسی مقاصد کی وجہ سے ایران پر پابندیاں لگاتی ہے.
انہوں نے وارسا میں امریکہ اور پولینڈ کی میزبانی میں آئندہ ہونے والی کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک تماشا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیش حکومت نے ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے ایسا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@