یورپ نے ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے کوتاہی برتی: ظریف

تہران، 8 فروری، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ یورپی ممالک جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹے مگر انھوں نے کوتاہی برتی.

ان خیالات کا اظہار ''محمد جواد ظریف'' نے روسی چینل روسیا الیوم کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے پر عمل کرنے سے متعلق یورپ نے اپنے وعدوں کی پامالی تو نہیں کی مگر اس نے کوتاہی ضرور برتی.
ظریف نے کہا کہ یورپ کے ایران سے کئے وعدوں میں ایرانی تیل کی فروخت کی یقین دہانی، تیل کی آمدنی تک رسائی اور دوسرے ممالک کے ساتھ بینکاری تعلقات جاری رکھنا، شامل ہیں جنہیں گزشتہ سال مئی میں یورپی یونین کے بیانیہ میں شامل کردیا گیا تھا.
محمد جواد ظریف سے جب پوچھا گیا کہ اگر یورپ نئے مالیاتی نظام، انسٹیکس میکنزم کو ایران کی FATF میں شمولیت یا میزائل سرگرمیوں پر مذاکرات سے مشروط کرے، تو ایران کیا ردعمل دے گا، تو انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ یورپ، ایران جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرے جبکہ وہ ایران پر کوئی خواہش مسلط کردہ کی پوزیشن میں نہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک نے ایران سے بہت وعدے کئے ہیں اور انھیں سب پر عمل کرنا ہوگا، ایران اپنے وعدوں پر اب تک قائم ہے جبکہ عالمی جوہری ادارے نے بھی 13 مرتبہ ہمارے حق میں رپورٹس شائع کیں.
ظریف نے کہا کہ امریکہ، غیرقانونی طور پر جوہری معاہدے سے نکل گیا تاہم یورپی ممالک نے بھی اس کے مکمل نفاذ پر کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا.
انہوں نے دہشت گردی کے لئے مالی وسائل کی ترسیل پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) سے متعلق کہا کہ اس پر ایران کے آئین کے مطابق عمل کیا جائے گا، ایران خود دہشتگردی کا بڑا شکار ہے تاہم ایف اے ٹی ایف سے متعلق جو بھی بل پارلیمنٹ میں پاس ہوگا اس کے لئے قانونی تقاضے پورے کرنے ہوں گے.
انہوں نے ایران کی میزائل سرگرمیوں کے حوالے سے کہا کہ میزائل پروگرام سے متعلق یورپی اور امریکی الزامات میں کوئی حقیقت نہیں، ہمارے میزائل دہشتگردوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں مگر مغربی ممالک کے ہتھیاروں کو خطے کے مظلوم عوام بالخصوص یمن کے نہتے عوام کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے.
ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی ممالک کو خبردار کیا کہ اگر وہ انسٹیکس میکنزم کے اجرا کو ایف اے ٹی ایف یا میزائل پروگرام سے مشروط کریں تو اس کے مقابلے میں ایران کے پاس دیگر راستے موجود ہیں.
انہوں نے شام کی صورتحال اور ترکی کے کردار سے متعلق کہا کہ شام میں قیام امن و سلامتی ہم سب کا مشترکہ مقصد ہے، ترکی اور شام کی سرحدوں پر دہشتگردی کے خطرات کو سمجھتے ہیں مگر ناجائز قبضے کے خاتمے کے لئے ایک اور قبضہ جمانا درست طریقہ نہیں.
ظریف نے کہا کہ شام اور ترکی کے درمیان تعلقات کی بحالی علاقائی امن و استحکام کے فائدے میں ہے، اگر دونوں ممالک ہم سے ثالثی کے لئے درخواست کریں گے تو ہم اس حوالے سے کردار ادا کرنے پر آمادہ ہیں.
انہوں نے شام سے امریکی انخلاء پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز کی شام میں موجودگی شروع دن سے ہی غیرقانونی تھی لہذا انھیں یہاں نہیں رہنا چاہئے اور فوری طور پر امریکہ کو شام سے نکلنا ہوگا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@