ماضی کے رویے میں تبدیلی لانے کی شرط پر امریکہ کیساتھ تعلقات قائم کریں گے: ایرانی صدر

تہران، 6 فروری، ارنا- ایرانی صدر نے دنیا کے تمام ممالک کیساتھ تعلقات قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاوس کا رویہ تبدیل ہونے کی شرط پر امریکہ کیساتھ تعلقات قائم کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے سارے ممالک کیساتھ تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے اور اسی سلسلے میں اگر امریکی حکومت بھی اپنے ماضی کے رویے میں تبدیلی لائے اور ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرے اور ایرانی قوم کی عظمت اور وقار کو تسلیم کرے تو طویل عرصے سے ایران پر ظلم و ستم ڈھانے کے با وجود امریکہ کیساتھ تعلقات قائم کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن ورحانی" نے آج بروز بدھ اسلامی انقلاب کی 40 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ایران میں تعینات مختلف ممالک کے سفیروں اور غیر ملکی نمائندوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش بغیر تشدد اور انتہا پسندی کی دنیا میں رہنے کی ہے اور اس پر قائم ہی رہیں گے۔
صدر روحانی نے ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دوسرے فریقین کی بنسبت اس معاہدے کے اصولوں پر اور زیادہ شفافیت کیساتھ قائم رہا اور اپنے کیے گئے وعدوں پر کسی بھی طرح خلاف ورزی نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے بھی اپنی رپورٹوں میں بارہا ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی پاسداری کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی صدر نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ بغیر سوچے سمجھے وجوہات اور قانونی اصولوں کے خلاف اقدامات کے ذریعے، اپنے آپ اور اسلامی جمہوریہ ایران سمیت، خطی ممالک، ایرانی شراکت داروں اورعلاقائی اور بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں کو مشکل صور تحال سے دو چار کردیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی ابتدا ہی سے دوسرے ممالک کی سرزمینوں پر عدم جارحیت کی پالیسی پر مبنی تھی۔
صدر روحانی نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں ظلم وستم کے خلاف اپنا سر نہیں جھکائیں گے اور ملک پر دوسروں کی جارحیت کو تسلیم نہیں کریں گے لہذا نہ دوسرے ممالک پر قبضہ جمانے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی کسی ملک کو اپنی سرزمین پر قبضہ جمانے کی اجازت دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش مشرق وسطی میں نیوکلئیر ہتھیاروں اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی بغیر رہنا ہے جو گزشتہ 40 سالوں سے اب تک اپنے اس مطالبے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مشرق وسطی سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء سمیت علاقے میں بغیر اغیار کی مداخلت کے رہنے کے خواہشمند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے تاریخ کی بڑی قوموں بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور انسانی اصولوں پر مبنی تعلقات قائم کرنے کے خواہشمند ہیں۔
صدر روحانی نے کہا کہ ہم بین الاقوامی اصولوں کے تحت دنیا کے تمام ممالک کےساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ امریکی حکومت اپنے نادرست مقاصد تک پہنچنے میں ناکام ہوگی-
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی حکومت نے گزشتہ سال سے اب تک اپنی بھر پور طاقت کے ساتھ ایرانی قوم کے خلاف پابندیاں لگا دیں اور عوام کو مایوس کرنے کیلئے ان پر دباو ڈال دی لیکن ہماری قوم آج مضبوط ارادے اور اتحاد کےساتھ امریکہ اور اپنے دشمن ممالک کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں۔
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@