ایران مذاہب اور اقوام کی پُرامن بقا کا مرکز ہے: ترجمان دفترخارجہ

تہران، 6 فروری، ارنا - ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر کے حالیہ خطاب میں ایران مخالف الزامات کے ردعمل میں کہا ہے کہ بعض مغربی ممالک اب بھی خود کو صہیونیوں کا مقروض سمجھتے ہیں مگر ایران اپنی روشن تاریخ کے ساتھ مختلف قوموں اور مذاہب کی باہمی پُرامن بقا کا مرکز ہے.

یہ بات ''بہرام قاسمی'' نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں اسٹیٹ آف دی یونین سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ خطاب کے ردعمل میں کہا کہ عالمی دوسری جنگ کے بعد بھی بعض مغربی ممالک خود کو صہونیوں کا مقروض سمجھتے ہیں جبکہ ایران امن روادارہ کا گہوارہ اور اقوام اور مذاہب کی پُرامن بقا کا مرکز بنا ہوا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا اور مشرق وسطی میں دہشتگردی امریکہ اور اس کے بعض اتحادی ممالک کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے القاعدہ، داعش جیسی دہشتگرد تنظیم اور دیگر انتہاپسند گروہوں کو بنا کر علاقائی بحران، بدامنی اور کشیدگی میں مزید اضافہ کیا.
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ٹرمپ ایسے وقت میں جھوٹے الزامات کی بنیاد پر ایران کے خلاف دہشتگردی کا الزام لگارہے ہیں جب کسی سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ شام و عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں ایران کے اہم کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف خود دہشتگردی کا بڑا شکار ہے بلکہ اس نے دہشتگردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں اور ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان بھی اٹھایا.
بہرام قاسمی نے کہا کہ ایران میں اقلیتی برادری بشمول یہودی شہری بالکل آزدانہ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی بھی ہوتی ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران میں تقریبا تمام الہامی ادیان کے پیروکار آباد ہیں اور یہی بات ایران کی مہذب قوم اور روشن تہذیب و تاریخ کی بڑی نشانی ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@