شام میں امن کا مکمل قیام ایران کی اہم علاقائی پالیسی ہے: صدر روحانی

تہران، 6 فروری، ارنا - صدر مملکت اسلامی جمہوریہ ایران نے شام کے ساتھ مستحکم تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں امن و استحکام کا مکمل قیام ایران کی اہم علاقائی پالیسی کا حصہ ہے.

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے بدھ کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے شامی وزیر خارجہ "ولید المعلم" کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے کہا کہ ایران شام تعلقات مستحکم، دوستانہ اور ہمیشہ برادرانہ ہیں اور ہم شام میں امن کے مکمل قیام کو خطے میں ایران کی اہم خارجہ پالیسی کا جز سمجھتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ہم اسلامی انقلاب کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ شام کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا اور دونوں قوموں کے مفادات کی فراہمی کے لئے قریبی تعلقات کا سلسلہ جاری رہے گا.
صدر روحانی نے دہشتگردوں کے خلاف شامی قوم اور حکومت کی کامیابیوں پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ اور بعض علاقائی ممالک کی قیادت میں بڑی سازشوں کے خلاف آپ کی کامیابیاں شامی عوام اور خطے کے لئے ایک بڑی فتح ہے.
انہوں نے کہا کہ شام کو مکمل سیکورٹی پہنچنے تک بعض مسائل کا سامنا ہے جو اس مشکلات پر قابو پانا دونوں ممالک کے اہم مقاصد ہیں لہذا اس حوالے سے باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے.
ایرانی صدر نے کہا کہ دونوں قوموں کے درمیان مستحکم تعلقات قائم رکھنے کے لئے بھرکوشش کرنا نہایت اہم ہے.
ولید المعلم نے اسلامی انقلاب کی 40ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف جنگ اور شام کی علاقائی حاکمیت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مکمل حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ثابت کردیا کہ اپنے راسخ عزم کے ساتھ امریکی سازشوں کو شکست دے سکتا ہے اور اس ملک کی تمام کامیابیاں خطے بالخصوص شام کے لئے ایک بڑا فخر ہے.
تفصیلات کے مطابق، شام کے وزیر خارجہ گزشتہ روز اعلی ایرانی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے لئے تین روزہ سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@