پاکستان کا ایرانی تاجروں کیلئے 6 ماہ کے ویزے کا اعلان

تہران، 6 فروری، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات خاتون پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایرانی تاجروں کے لئے 6 ماہ سے ایک سال کی مدت تک ملٹی پل ویزا دے گا.

یہ بات ''رفعت مسعود'' نے گزشتہ روز پاکستانی سفارتخانے اور تہران کے ایوان صنعت و تجارت کی مشترکہ نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایرانی تاجروں کو تہران کے ایوان صنعت کا تصدیقی لیٹر ہونے کی صورت میں 6 ماہ سے ایک سال کی مدت تک ملٹی پل ویزا دینے کا فیصلہ کیا ہے.
اس موقع پر انہوں نے پاک ایران مشترکہ سرحدی کمیٹیوں کی تشکیل کو باہمی تجارتی روابط بڑھانے کے لئے اہم قرار دیا.
خاتون سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایرانی تاجروں کے لئے ویزوں کے حصول کے مسائل کو حل کردیا ہے، مشترکہ سرحدی کمیٹی کے فیصلوں کے تحت جس ایرانی تاجر کے پاس صنعت و تجارت کے ایوانوں سے تصدیقی لیٹر ہونے کی صورت میں انھیں پاکستان کا ملٹی ویزا ملے گا جس کی مدت 6 ماہ ہوگی.
انہوں نے کہا کہ پاک ایران ترانزٹ روٹ پر ٹی آئی آر کارنٹ پرمٹ کو لاگر کردیا گیا ہے جبکہ ٹی آئی آر کنونشن کے تحت پہلا ایرانی ٹرک پاکستان چلا گیا.
پاکستانی سفیر نے بتایا کہ حیرت کی بات ہے کہ ایران نے پابندیوں کے باوجود پاکستان کے ساتھ اپنی تجارتی سطح کو برقرار رکھنا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان نے ایران کو برآمدات سے متعلق کوئی خاص اقدام نہیں کیا.
انہوں نے پاک ایران آزادانہ تجارتی معاہدے کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ترجیحی معاہدے کو تجدید کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر میری نظر میں ہمیں اسے چھوڑ کر آزادانہ تجارتی معاہدہ کرنا چاہئے جس کی مدد دونوں ممالک کے تاجروں کو درپیش نان ٹیرف مسائل کا خاتمہ ہوگا.
رفعت مسعود نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان بینکنگ چینل کا نہ ہونا دونوں ملکوں کے تاجروں اور اقتصادی سرگرمیوں کے لئے ایک بڑا چلینج ہے، اس سے پہلے ایران اور پاکستان نے رقوم کی ادائیگی سے متعلق ایک معاہدے کیا تھا جس کی مدت گزر گئی ہے.
انہوں نے ایران اور پاکستان کے بینکوں کے درمیان مقامی کرنسی کے لین دین کو یقینی بنانے کے لئے مرکزی بینکوں کے درمیان مذاکرات کو موثر قرار دیا.
پاکستانی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان غیرقانونی تجارتی سرگرمیوں سے متعلق کہا کہ اس وقت دوطرفہ تجارتی حجم 1.300 ارب ڈالر تک بتایا جارہا ہے جبکہ غیرقانونی تجارتی سرگرمیوں کے حجم 3.300 ارب ڈالر پہنچ گیا ہے لہذا دونوں ممالک کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ اسمگلنگ کے مسئلے پر قابو پانا چاہئے.
اس نشست میں نائب صدر تہران ایوان صنعت و تجارت برائے بین الاقوامی امور محمد رضا بختیاری نے کہا کہ پاک ایران تعلقات دیرینہ ہیں اور پاکستان، ہمیشہ ایران کا ایک اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کو ایرانی برآمدات کی سطح ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ 10 مہینوں کے دوران دوطرفہ تجارت میں 42 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@