ایران پر دوبارہ تسلط جمانے کا امریکی خواب پورا نہیں ہوگا: ایرانی صدر

تہران، 5 فروری، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے امریکہ کی جانب سے اسلامی انقلاب کی 40 سالہ کامیابیوں کو کمزور کرنے کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دوبارہ تسلط جمانے کا امریکی خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے منگل کے روز تہران میں سال کی بہترین کتاب کی 36ویں تقریب اور 26ویں عالمی کتاب ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
انہوں نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی تسلط کا دور جس میں آپ ہماری معیشت، ثقافت، ریڈیو اور ٹیلی ویژن، فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حکمرانی کی تھی، ختم ہوچکا ہے اور ہم کبھی اس دوران میں واپس نہیں لوٹیں گے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ یورپ، امریکہ اور عرب رجعت پسند حکمرانوں نے ایران پر مکمل پابندی لگائی لیکن وہ ہمارے عقائد اور امید کے سامنے کچھ کرنے میں ناکام رہا۔
انہوں نے ملک میں معیشتی مسائل اور امریکی مخالف پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران میں بھی لوگ زخمی اور جان بحق ہوگئے اور یہ جنگ کے معمول اثرات ہیں لہذا پابندیوں کے دوران ہمیں مشکلات اور کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ایرانی قوم اور ثقافت کو نشانہ بنانے کا ارداہ نہیں ہے جبکہ انہوں نے 4 امریکی دانشوروں کو تہران میں سال کی بہترین تقریب میں شریک ہونے اور اپنے ایوارڈ حاصل کرنے سے روک دیا یہ ان پر پابندیاں لگانے کا واضح مثال ہے۔
صدر روحانی نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خطی ممالک کےساتھ جنگ لڑ رہے ہیں اور نامناسب اور غیر سفارتی بیان سے بات کرتے ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی ایران کی نگرانی کرنے کیلئے ہیں جبکہ اس پہلے کہا تھا کہ انسداد دہشتگردی کیلئے وہاں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کس طرح کا رویہ ہے جو نہ صرف ایرانی اور عراقی قوموں کی جانب سے مانا نہیں جاتا ہے بلکہ دنیا کا کسی بھی شخص بھی اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔
صدر روحانی نے کہا کہ آپ واضح طور پر کہتے ہیں کہ عراق کے ایک حصے کو ایران کے خلاف جاسوسی کرنے کیلئے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے،کیا یہ بات منطقی اصولوں کے مطابق ہے؟
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@