روس، ایران سمیت 3 ملکوں کے ساتھ میزائل کنٹرول کا نیا معاہدہ کرنے کا خواہشمند

ماسکو، 5 فروری، ارنا - روس نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر چھوٹے اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں کمی کا نیا معاہدہ کرے گا.

یہ بات روس کے ایوان زیریں 'ڈوما' کی سلامتی اور دفاع کمیٹی کے چیئرمین جنرل 'ولادیمیر شمانوف' نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ میزائلوں کے تجربے میں کمی کے معاہدے میں صرف روس اور امریکہ نہیں بلکہ وہ ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں جنہوں نے یہ ٹیکنالوجی حاصل کر رکھی ہے.
روسی جنرل نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کا ملک ایران، پاکستان اور بھارت کے ساتھ اس حوالے سے نیا معاہدہ کرنے کا خواہش مند ہے تاہم اس کی شرط یہ ہوگی کہ امریکہ میزائلوں کے تجربے میں کمی کے معاہدے کی از سرنو تجدید کی پیشکش کرے.
یاد رہے کہ امریکہ نے گزشتہ دنوں روس کے ساتھ جوہری میزائلوں میں کمی کا معاہدہ معطل کردیا ہے جو ان کے درمیان سرد جنگ کے دوران ہوا تھا.
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے معاہدے کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ روس کافی عرصے سے میزائل معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کرتا رہا جو اب ناقابل برداشت ہوگیا ہے.
اس حوالے سے ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکہ حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ اسے ان معاہدوں کا پابند رہنے کی الرجی ہے.
محمد جواد ظریف نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ امریکہ ایک بار پر عالمی معاہدے سے نکل گیا اور اس بار ٹرمپ انتظامیہ نے روس کے ساتھ آئی این ایف معاہدے سے علیحدگی اختیار کرلی.
ظریف نے مزید کہا کہ امریکہ سے طے پانے والے ہر معاہدوں کی کوئی اہمیت نہیں چاہے وہ کانگریس کے ساتھ ہی کیوں نہ طے پائے ہوں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@