7 ہزار کے قریب جرمن کمپنیاں ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کی خواہاں ہیں

تہران، 2فروری، ارنا- ایران جرمنی مشترکہ چیمبر آف کامرس کے ایک اعلی رکن نے ایران یورپ مالیاتی میکنزم کی موثر کارگردگی پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میکنزم کی ناکامی کیلئے امریکی پروپیگنڈہ موثر ثابت نہیں ہوگا۔

"میشائیل توکوس" نے جرمنی کے اقتصادی جریدے "ویرتشافتس ووخہ" کے ساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی کے 5 ہزار سے 7 ہزار کے لگ بھگ کمپنیاں، ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنے کی خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے ایران کیلئے انسٹیکس میکنزم کے باضابطہ اجرا سے یورپی کمپنیاں، ایران کے ساتھ تجارتی لین دین برقرار کرسکتی ہیں۔
انہوں نے ایران کے انسٹیکس میکنزم کے موثر اجرا پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کی روک تھام پر مبنی نقطہ نظر بالکل غلط ہے۔
جرمنی کے سرگرم اقتصادی کارکن نے کہا کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کی بدولت فی الحال صرف جرمنی کی بڑی کمپینیوں اور ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات معطلی کا شکار ہے جبکہ جرمنی ماہانہ 200یورو کی مالیت سے زائد مصنوعات ایران کو برآمد کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی کی 5 ہزار سے 7 ہزار لگ بھگ چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کا سلسلہ جاری رکھنے کی خواہاں ہیں جبکہ امریکہ کی توجہ صرف جرمنی کی بڑی کمپنیوں پر مرکوز ہے جو جرمنی میں قائم ایرانی بینکوں سمیت سمندری سروس لائن کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت، جرمن کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے ان کو ایران اور امریکہ میں سے ایک کو چننے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
یاد رہے کہ رومانیہ میں یورپی یونین کے وزارتی اجلاس کے موقع پر جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کے لئے مخصوص مالیاتی نظام کے اجرا کا باضابطہ طور پر اعلان کردیا.
رپورٹ کے مطابق، یورپ کے مخصوص مالیاتی چینل کا مرکزی دفتر پیرس میں ہوگا جسے INSTEX کا نام دیا گیا ہے اور یہ تجارتی تبادلے کے سازوسامان کا مخفف ہے.
تینوں یورپی ممالک انسٹیکس میکنزم کے حصہ دار ہوں گے اور نامور جرمن بینکر اس کی قیادت کریں گے.
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@