روس نے اپنے وعدوں پر من و عن عمل کیا ہے: اعلی ایرانی جوہری عہدیدار

تہران، 30 جنوری، ارنا - نائب ایرانی صدر اور جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے پُرامن جوہری سرگرمیوں سے متعلق روس کے ساتھ دوطرفہ تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے آج تک جو وعدہ کیا اس پر عمل کیا ہے.

''علی اکبر صالحی'' نے ارنا نیوز ایجنسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم روس کے شکرگزار ہیں جس نے ایران سے کیا گیا ہر وعدہ نبھایا ہے.
انہوں نے ایران اور روس کے درمیان پُرامن جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روس نے اچھی طرح اپنے وعدے نبھائے ہیں.
صالحی نے بتایا کہ میری نظر میں روس نے بعض مرحلوں میں اپنے وعدوں سے بھی زیادہ تعاون کیا تاہم ایسے تمام اقدامات عالمی جوہری ادارے کے مطابق اٹھائے گئے ہیں.
انہوں نے مزید بتایا کہ روس نے جو بھی کیا ایران جوہری معاہدے اور عالمی جوہری ادارے کے اصولوں کے مطابق کیا مگر اس کے باوجود ہم روس کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے اپنے وعدوں پر اچھی طرح عمل کیا ہے.
علی اکبر صالحی نے اس موقع پر چین کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے اراک ریکٹر کو جدید بنانے میں مثبت کردار ادا کیا.
انہوں نے مزید کہا کہ اراک ریکٹر منصوبے میں ہم چین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرگرمیوں میں تیزی لائے، ہمارے پاس اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے اور بھی طریقے ہیں لیکن ہمیں امید ہے کہ چینی فریق اس کام کو طول نہیں دے گا ورنہ ہمیں کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرنا پڑے گا.
اعلی ایرانی جوہری عہدیدار نے بتایا کہ ہم اپنے کام آگے بڑھائیں گے، مگر ہمارے رفقائے کار بعد میں ہمیں یہ نہ کہیں کہ کیوں ہم اپنے آپ اس منصوبے کو آگے بڑھارہےہیں. لہذا ہم اعلان کرتے ہیں کہ آئیں اور ماضی کی طرح مل کر منصوبے کو آگے بڑھائیں.
انہوں نے ایران اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان جوہری سلامتی، تربیت اور یورپ کے ساتھ نیوکلئیر فیوژن کے شعبے میں دوطرفہ تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جوہری صنعت سے متعلق ہمارا عالمی تعاون قابل تعریف نہیں مگر پھر بھی ٹھیک ہے.
علی اکبر صالحی نے کہا کہ جوہری معاہدے میں موجود ایران کے دیگر شرکا اگر جوہری صنعت سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل نہ کریں تو ایران کے ہاتھ بندھے نہیں بلکہ ہم کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے مختلف آپشنز کا انتخاب کریں گے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@