اعلی ایرانی سفارتکار کی SPV نظام کے نفاذ میں تاخیر پر تنقید

تہران،29 جنوری، ارنا- اعلی ایرانی سفارتکار اور نائب وزیر خارجہ نے ایران کیلئے یورپ کے مخصوص مالیاتی نظام کے نفاذ میں تاخیر کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کے توازن کو بگاڑنے سے یورپ سمیت خطے اور دنیا پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بات نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور "سید عباس عراقچی" نے آج بروز منگل، آسٹرین پارلمینٹ کی خارجہ پالیسی کے چیئرمین "شیدر" کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی۔
ہونے والی ملاقات میں ایران-آسٹریا پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے سرابرہ بھی شریک تھے۔
اس ملاقات میں دونوں فریقین نےعلاقائی اور بین الاقوامی مسائل سمیت، باہمی تعلقات بالخصوص پارلیمانی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر آسٹرین پارلمینٹ کی خارجہ پالیسی کے چیئرمین نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کی اہمیت سمیت خطے میں ایران کے اہم کردار کا ذکرکرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعلقات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔
انہوں نے ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے آسٹریا کے پارلیمانی وفد کے دورہ ایران کیساتھ اتفاق کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کیساتھ باہمی اورعلاقائی امور سے متعلق گفتگو کرنے پر دلچسبی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر اعلی ایرانی سفارتکار نے جوہری معاہدے کے حوالے سے آسٹرین حکومت کی تعمیری موقف کو سراہتے ہوئے ایران کیلئے یورپ کے مخصوص مالیاتی نظام کے نفاذ میں تاخیر پر یورپ کی تنقید کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدے کے توازن کو بگاڑنے سے یورپ سمیت خطے اور دنیا پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔
نائب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ خطے سے دور ہونے کی بدولت خطے کی صورتحال سے اچھی طرح واقف نہیں ہے لہذا یورپ کو اپنی تاریخی ذمہ داری نبھانی پڑے گی۔
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@