شاہنامہ کا خالق فردوسی، ایران کا عالمی شہرت یافتہ شاعر

تہران، 29 جنوری، ارنا – فردوسی جن کا پورا نام حکیم ابوالقاسم ہے ان سینکڑوں ایرانی شاعروں میں مانے جاتے ہیں جن کو دنیا میں شہرت حاصل ہے جبکہ ادب و تہذیب سے تعلق رکھنے والے فردوسی کو یونانی شاعر ہومر کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں.

شاعری اور قدیم ادب ایرانی ثقافت کا ایک لازوال حصہ اور اسی سے وابستہ ملک میں بڑا نام پیدا والے ادیب اور شاعر گزرے ہیں جن پر ایرانی تاریخ ہمیشہ فخر کرتی ہے.
حکیم ابوالقاسم فردوسی وہ شاعر ہے جو دنیا بھر میں ممتاز مقام رکھتا ہے اور ادب کے میدان میں بہت سے دانشوروں نے اسے نامور یونانی شاعر ہومر کا ہم پلہ قرار دیا ہے.
فردوسی کی شاہکار تصنیف شاہنامہ ہے جو دنیا میں ممتاز مقام رکھتی ہے، فردوسی نے فارسی ثقافت اور ادب کے تحفظ کے لئے اہم خدمات سرانجام دیں. اس شاعر نے اپنی تمام زندگی فارسی زبان کی خدمت میں گزاری.
اس شعری مجموعے میں “عظیم فارس“ کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے. اس میں عظیم فارس سے لے کر اسلامی سلطنت کے قیام تک کے واقعات، تہذیب، تمدن اور ثقافت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایرانی تہذیب اور ثقافت میں شاہنامہ کو اب بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس کو اہل دانش فارسی ادب میں انتہائی لاجواب ادبی خدمات میں شمار کرتے ہیں۔
حکیم ابوالقاسم حسن پور علی طوسی عرف فردوسی دسویں صدی عیسوی (چوتھی صدی ھجری) کے نامور اور معروف فارسی شاعر جو 940ء (329ھ) میں ایران کے علاقے خراسان کے شہر طوس کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور 1020ء (416ھ) میں وفات پا گئے.
شاہنامہ تقریباً 60000 سے زائد اشعار پر مشتمل ہے جس میں ایرانی داستانیں اور ایرانی سلطنتیں جیسا کہ پیشدادیان، کیانیان، اشکانیان اور ساسانیان کی تاریخ بیان کی گئی ہے.
فردسی کا مزار فارسی ادب اور ثقافت پر دلچسبی رکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے جو پاژ نامی گاؤں کے 28 کیلومیٹر کے قریب میں واقع ہے اور 1 آپریل 1964 عالمی فہرست میں شامل کردیا گیا.
فردوسی کا مزار گزشتہ ہزار سالوں سے اب تک بار بار قدرتی آفات اور تاریخی واقعات کا شکار ہوگیا مگر از سرنو تعمیر کیا گیا ہے.
1933 میں فردوسی کا نیا مزار کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جس کا رقبہ 30 ہزار میٹرکیوبک ہے.
نامور ایرانی شاعر کے مزار کے قریب ایک میوزیم اور لائبریری موجود ہیں.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@