شاہراہ ریشم منصوبہ ایران چین تعلقات کے فروغ کے لئے اہم قرار

بیجنگ، 28 جنوری، ارنا - چین میں تعینات ایرانی ناظم الامور نے کہا ہے کہ چین کے تجویزہ کردہ شاہراہ ریشم کے نئے منصوبے سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی.

''حسن شاہ بیگ'' نے چین کے مشہور انگریزی اخبار چائنا ڈیلی کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ نئے شاہراہ ریشم منصوبے پر عملدرآمد سے ایران چین تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا.
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران اور چین کی معیشتیں ایک دوسرے سے منسلک ہیں، توانائی کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم حصہ ہے.
ایران میں چین کی سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی ناظم الامور نے بتایا کہ چین کے مالیاتی ادارے ایران کو ایک بڑی مارکیٹ جہاں سنہری مواقع میسر ہیں، کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ چین کی معیشت کے تحفظ کے لئے 35 ارب ڈالر کا قرضہ اور سرمایہ کاری فراہم کریں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ چین نے اسی سلسلے میں ایران کے لئے 10 ارب ڈالر کی ایک کریڈٹ لائن فراہم کرے گا جسے آبپاشی، نقل و حمل اور توانائی کے شعبوں میں خرچ کیا جائے گا.
حسن شاہ بیگ نے کہا کہ چین کے ترقیاتی بینک نے بھی ایران میں بنیادی ڈھانچوں سے متعلق 15 ارب ڈالر فراہم کرنے پر آمادہ ہے اور اس کے علاوہ چین کے ایکسپورٹ-امپورٹ بینک بھی 10 ارب ڈالر کی کریڈٹ لائن دینے کا فیصلہ کیا ہے.
انہوں نے بتایا کہ کریڈٹ لائن کی فراہمی شاہراہ ریشم سے متعلق ایران اور چین کے درمیان تعاون کا ایک اہم حصہ ہے جس کی مدد سے ریلوے لائن، زمینی راستے اور نقل و حمل کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے.
ایرانی ناظم الامور نے مزید بتایا کہ شاہراہ ریشم کے نئے منصوبے کی تکمیل کے لئے ایران ایک اہم اور کلیدی ذریعہ ہے جو مشرق وسطی کے مرکز میں واقع ہے اور ایران اس منصوبے کو شمال-جنوب اور مشرق-مغربی راہداری سے منسلک کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@