ایران کے بغیر مشرق وسطی کے بحرانوں کا حل ممکن نہیں: اعلی پولش سفارتکار

تہران، 23 جنوری، ارنا - ایران کے حالیہ دورے پر آئے ہوئے پولیش حکومت کے ایلچی اور سنیئر سفارتکار نے کہا ہے کہ ہم یقین سے کہتے ہیں کہ مشرق وسطی کے تمام بحرانوں کے حل کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا.

'ماچیج لینگ' جنہوں نے دورہ ایران میں اپنے ہم منصب ''سید عباس عراقچی'' کے ساتھ اہم ملاقات کی، اس موقع پر ارنا نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹرویو دیا.
نائب پولیش وزیر خارجہ ایک سیاستدان، ماہر سفارتکار اور صحافی بھی ہیں جنہوں نے سفارتی سرگرمیوں کو میڈیا سے آغاز کیا.
'ماچیج لینگ' نے عمرانیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور جب وہ ارنا نیوز ایجنسی کو انٹرویو دے رہے تھے تو انھیں مترجم کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ جب وہ افغانستان میں سفیر کے عہدے پر تعینات تھے تو انہوں نے وہاں فارسی دری سیکھی تھی.
انہوں نے آئندہ ماہ پولیش اور امریکی انتظامیہ کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی اینٹی ایران کانفرنس سے متعلق کہا کہ اس حوالے سے ایرانی ہم منصب کے ساتھ اچھی گفتگو کا موقع ملا جس سے غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکا.
اعلی پولیش سفارتکار نے بتایا کہ ان کی نظر میں یہ ملاقات تعمیری رہی جس کے دوران مفید مذاکرات کئے گئے.
ایران پولینڈ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات 545 سال پہلے قائم ہوئے، دوسری عالمی جنگ کے دوران ایرانیوں نے ایک لاکھ 20 ہزار پولیش شہریوں کا تاریخی استقبال کیا جن کو ہو فراموش نہیں کرسکتے اور ہم اس پر ایرانی قوم کے شکرگزار بھی ہیں.
انہوں نے وارسا کانفرس سے متعلق کہا کہ یہ اجلاس کسی ملک کے خلاف نہیں اور ہمارا مقصد ہے کہ موجودہ مشکلات پر اجتماعی طور پر غور و فکر کیا جائے.
'ماچیج لینگ' نے وارسا کانفرنس میں ایران کو مدعو نہ کئے جانے پر کہا کہ پولینڈ اور امریکہ اس کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کررہے ہیں اور جب ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات قائم نہیں تو ایران کو دعوت نہیں دی جاسکتی تھی لیکن ہم یہ بات واضح طور پر کہتے ہیں کہ ایران کے بغیر مشرق وسطی کے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا.
انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق اور اس سے امریکہ کی غیرقانونی علیحدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پولینڈ یورپی یونین کا ایک خودمختار رکن ہے جو ایران جوہری معاہدے کی بھرپور حمایت کرتا ہے. وارسا کانفرنس میں 80 ممالک مدعو ہیں اور اگر کوئی یہاں ایران جوہری معاہدے پر بھی بات کرنا چاہے تو وہ آزادانہ طور پر اس حوالے سے بات کرسکتا ہے.
اعلی پولیش سفارتکار نے وارسا کانفرس کے نتائج کے بعد ایران اور پولینڈ کے تعلقات پر ممکنہ منفی اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمارا مقصد بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا ہے. موجودہ مسائل کے حل کا واحد مقصد بات چیت ہے. پولینڈ کا مقصد مثبت کردار ادا کرنا اور مشرق وسطی کے بحرانوں کے حل کے لئے مدد فراہم کرنا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@