کسی کو ایرانی مفادات کیخلاف اتحاد بنانے کی اجازت نہیں دیں گے: عراقچی

تہران، 22 جنوری، ارنا - اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے تاہم ایران کسی کو خطے کے اندر یا باہر اپنے قومی مفادات کے خلاف اتحاد بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا.

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق، یہ بات وزیرخارجہ کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ''سید عباس عراقچی'' نے ایران کے دورے پر آئے ہوئے پولینڈ کے نائب وزیرخارجہ کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
فریقین نے اس موقع پر امریکہ اور پولینڈ کی مشترکہ میزبانی میں وارسا میں آئندہ ہونے والی نام نہاد مشرق وسطی کی امن و سلامتی کانفرنس کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا.
سید عباس عراقچی نے یہ بات واضح کی کہ ایران علاقائی امن و استحکام کا حامی ہے، جبکہ دہشتگردوں بالخصوص داعش کے خلاف ہماری جنگ اس بات کا واضح ثبوت ہے.
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی کو خطے کے اندر یا باہر ایرانی مفادات کے خلاف اتحاد بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پولینڈ کے نائب وزیرخارجہ نے ایسے وقت میں ایران کا دورہ کیا جب پولینڈ اور امریکہ کی جانب سے ایران مخالف اجلاس کی مشترکہ میزبانی کرنے سے متعلق حکومت ایران نے گزشتہ دنوں پولیش حکومت سے شدید احتجاج کیا تھا.
امریکہ مشرق وسطی میں امن و سلامتی کے نام نہاد موضوع پر ایران کے معاملے پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے. امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے مطابق یہ کانفرنس آئندہ ماہ 13 اور 14 فروری کو پولینڈ میں کرائی جائے گی.
سید عباس عراقچی نے اپنے پولیش ہم منصب پر یہ بات واضح کردی کہ مشرق وسطی کے بحرانوں کی اصل جڑ ناجائز صہیونی ریاست ہے، جس کی جابرانہ اور ظالمانہ پالیسی کی وجہ سے یہ خطہ شدید مشکلات سے دوچار ہے.
انہوں نے بتایا کہ جب تک فلسطینی عوام کو ان کے حقوق نہیں ملتے خطے میں امن و استحکام کا قیام ناممکن ہے. مگر بدقسمتی سے یہ مسئلہ مشرق وسطی کی نام نہاد کانفرنس کا حصہ نہیں جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ کانفرنس جانبدار ہے اور امریکہ اس کے ذریعے مخصوص مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے.
اعلی ایرانی سفارتکار نے مزید کہا کہ خطہ کا ایک اور بحران امریکہ کی مہم جوئی ہے، امریکہ علاقائی مسائل کو حل کرنے کا کیسا دعویٰ کرسکتا ہے جبکہ وہ سفارتکاری عمل اور طویل مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے جوہری معاہدے سے غیرقانونی طور پر نکل گیا.
انہوں نے وارسا کانفرنس سے متعلق امریکہ کا ساتھ دینے پر پولیش حکومت کی وجوہات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے پولینڈ پر زور دیا کہ وہ امریکہ کی اصل نیت سے آگاہ رہے کیونکہ امریکہ اس کانفرنس کے ذریعے کچھ اور حاصل کرنا چاہتا ہے.
اس ملاقات میں پولیش نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ایران جوہری معاہدے کی بھرپور حمایت کرتا ہے.
انہوں نے بتایا کہ وارسا میں ہونے والی آئندہ کانفرنس کا مقصد مشرق وسطی میں امن و استحکام کو مضبوط بنوانا ہے لہذا یہ کسی ملک بشمول اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف نہیں.
'ماچیج لینگ' نے ایران پولینڈ دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کو مشرق وسطی کا اہم ملک سمجھتے ہیں لہذا پولینڈ، دوست ملک کی حیثیت سے ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی ہرگز اجازت نہیں دے گا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@