امریکہ نے اپنی ناکام پالیسی کا بدلہ خاتون ایرانی صحافی سے لیا

ماسکو، 21 جنوری، ارنا - روسی میڈیا گروپ رشیا ٹوڈے کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ امریکہ میں ایران کے بین الاقوامی انگریزی چینل پریس ٹی وی کی خاتون اینکرپرسن کی گرفتاری امریکی انتظامیہ کی بے بسی کو ظاہر کرتی ہے.

ان خیالات کا اظہار ''دمتری کیسلوف'' نے ارنا نیوز کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنی ناکام پالیسی کے نتیجے میں مرضیہ ہاشمی جیسی آزادخیال صحافی کو گرفتار کرنے پر مجبور ہوا ہے. وائٹ ہاؤس کے مکین جب خودمختار ممالک پر حاوی نہ ہوسکیں تو وہ عام افراد کو نشانہ بناتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ آج امریکہ دنیا بھر میں یرغمال بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے جس کے ذریعے سے وہ چاہتا ہے کہ دوسروں پر اپنا نظریہ تھوپ دے.
نامور روسی صحافی نے کہا کہ آج بدقسمتی سے ہمیں یہ دیکھنا پڑ رہا ہے کہ ایران کی خاتون صحافی مرضیہ ہاشمی امریکہ کی ناکام پالیسی کا نشانہ بن گئی ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ مرضیہ ہاشمی کا کوئی قصور نہیں بلکہ انھیں اس جرم میں گرفتار کیا کہ وہ اپنے علیل بھائی کو دیکھنے کے لئے امریکہ پہنچی تھیں.
دمتری کیسلوف نے کہا کہ امریکہ نے صرف اس وجہ سے مرضیہ ہاشمی کو گرفتار کیا کہ وہ ایک مسلمان اور ایرانی شہری ہیں جو ایرانیوں کے ساتھ کام کرتی ہیں.
انہوں نے دنیا میں حریت پسند اور خودمختار میڈیا اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مرضیہ ہاشمی کے حق میں آواز اٹھائیں.
یاد رہے کہ مرضیہ ہاشمی کو گزشتہ ہفتے سینٹ لوئس لبرٹ بین الاقوامی ایئر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد ایف بی آئی کے اہلکاروں نے انھیں واشنگٹن میں موجود جیل میں منتقل کردیا.
خاتون رپورٹر کے اہل خانہ 48 گھنٹوں تک ان کی صورتحال سے لاعلم رہے جبکہ کچھ دن گزرنے کے بعد اہل خانہ کو ان کی گرفتاری سے مطلع کیا گیا.
پریس ٹی وی کے مطابق، مرضیہ ہاشمی نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا.
انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں نے جیل میں منتقلی تک ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جبکہ ان کے سر سے حجاب بھی اتارا گیا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@