خاتون ایرانی صحافی کی گرفتاری امریکی کمزوری کی علامت ہے: اعلی ایرانی عہدیدار

تہران، 20 جنوری، ارنا- ایران کے جوہری توانائی کے سربراہ نے کہا ہے کہ خاتون ایرانی صحافی "مرضیہ ہاشمی" کی بلاجواز گرفتاری، جمہوریت کے دعویدار امریکی حکومت کی کمزوری کی علامت ہے۔

یہ بات "علی اکبر صالحی" نے "غزہ؛ مزاحمت کی علامت" کے 9ویں اجلاس کے موقع پر صحافیوں کےساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام بالکل جمہوریت کے خلاف ہے کیونکہ خاتون ایرانی صحافی نے اپنے گھروالوں کو دیکھنے کیلئے امریکہ کا سفر کیا تھا اور بغیر کسی قصور کا گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کسی کو بھی امریکہ کے اس اقدام پر اعتراص نہیں کیا ہے۔
صالحی نے مزید کہا کہ جب کوئی مسئلہ مغربی ممالک کے مفاد میں ہو تو اسے سارے دنیا میں اجاگر کردیتے ہیں لیکن خاتون ایرانی رپورٹر کی کیس میں بالکل خاموشی اختیار کرتے ہوئے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
یاد رہے کہ مرضیہ ہاشمی کو گزشتہ ہفتے سینٹ لوئس لبرٹ بین الاقوامی ایئر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد ایف بی آئی کے اہلکاروں نے انھیں واشنگٹن میں موجود جیل میں منتقل کردیا.
خاتون رپورٹر کے اہل خانہ 48 گھنٹوں تک ان کی صورتحال سے لاعلم رہے جبکہ کچھ دن گزرنے کے بعد اہل خانہ کو ان کی گرفتاری سے مطلع کیا گیا.
پریس ٹی وی کے مطابق، مرضیہ ہاشمی نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا.
انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں نے جیل میں منتقلی تک ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جبکہ ان کے سر سے حجاب بھی اتارا گیا.
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@