پریس ٹی وی کی خاتون رپورٹر کی گرفتاری اظہار رائے کی آزادی کی واضح خلاف ورزی ہے

تہران، 20 جنوری، ارنا – نائب ایرانی وزیر عدلیہ برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ پریس ٹی وی کی خاتون رپورٹر کی گرفتاری اظہار رائے کی آزادی کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے.

یہ بات 'محمود عباسی' اتوار کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے خاتون ایرانی صحافی اور پریس ٹی وی کی اینکرپرسن 'مرضیہ ہاشمی' کی غیر قانونی گرفتاری کو انسانی حقوق پر امریکی حکام کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خاتون کے ساتھ غیر انسانی رویہ، ان کے اہل خانہ کو ان کی گرفتاری سے مطلع نہ کرنا، ان کے سر سے حجاب اتارنا، ان کے اسلامی عقائد پر توہین کرنا یہ سب بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے خلاف ہیں.
عباسی نے بتایا کہ بعض ممالک اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے انسانی حقوق کا غلط استعمال کر رہے ہیں.
یاد رہے کہ مرضیہ ہاشمی کو گزشتہ ہفتے سینٹ لوئس لبرٹ بین الاقوامی ایئر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد ایف بی آئی کے اہلکاروں نے انھیں واشنگٹن میں موجود جیل میں منتقل کردیا.
خاتون رپورٹر کے اہل خانہ 48 گھنٹوں تک ان کی صورتحال سے لاعلم رہے جبکہ کچھ دن گزرنے کے بعد اہل خانہ کو ان کی گرفتاری سے مطلع کیا گیا.
پریس ٹی وی کے مطابق، مرضیہ ہاشمی نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا.
انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں نے جیل میں منتقلی تک ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جبکہ ان کے سر سے حجاب بھی اتارا گیا.
9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@