پولینڈ میں ایران مخالف اجلاس سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں: ایرانی سفیر

تہران، 19 جنوری، ارنا - امریکہ کی جانب سے پولینڈ کی میزبانی میں ایران مخالف اجلاس بلائے جانے کے فیصلے کے بعد پولینڈ میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ اس اقدام سے تہران وارسا تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں.

''مسعود ادریسی کرمانشاھی'' نے ہفتہ کے روز ارنا نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا مقصد ہے کہ موجودہ یورپ کے سامنے نام نہاد نیا یورپ کو سامنے کھڑا کر کے ایران جوہری معاہدے کو بچانے کے لئے یورپی کوششوں کو نقصان پہنچائے.
انہوں نے مزید کہا کہ پولینڈ میں اینٹی ایران سمٹ کا امریکی مقصد ایران سے متعلق یورپی ممالک کے درمیان اختلافات پھیلانا ہے لہذا اس اجلاس سے ایران اور پولینڈ کے درمیان تعلقات متاثر ہوں گے.
ایرانی سفیر نے کہا کہ پولینڈ ایران مخالف امریکی دباؤ میں آیا ہوا ہے جبکہ دوسری جانب وہ یورپی یونین میں اپنا نام بنانا چاہتا ہے. ایران کے خلاف پولینڈ میں اجلاس بلانا ایران دشمنی کی ایک کڑی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پولینڈ میں دو ہزار ایران یشہری مقیم ہیں جس میں زیادہ تر طالب علم ہیں. دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تجارتی حجم سال 2018 کے 10 مہینوں میں 25 کروڑ ڈالر رہا ہے اس کے علاوہ دونوں ممالک انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیاحتی شعبوں میں اچھا تعاون کررہے ہیں.
مسعود ادریسی نے کہا کہ اگر پولینڈ کا خیال ہے کہ امریکہ کے ایران مخالف اجلاس کی میزبانی کرکے وہ کوئی مخصوص مفاد حاصل کرسکتا ہے تو وہ خام خیالی کا شکار ہے. تاریخ یہ اقدام نہیں بھولے گی اور نہ ایران اور پولینڈ کے عوام ایسے اقدامات کو ذہن سے نکالیں گے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@