پاک ایران گیس منصوبے کی جلد تکمیل اہم: پاکستانی ماہرین

اسلام آباد، 19 جنوری، ارنا - پاکستان کی حکمران جماعت کے ماہرین نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ موجودہ گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا ہے.

پاکستانی انگریزی اخبار ''دی ایکسپریس ٹریبیون'' کے مطابق، حکومتی ماہرین نے توانائی شعبے میں علاقائی تعاون کے تناظر میں پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام تیز کرنے کی تجویز دی ہے.
تحریک انصاف حکومت کے پالیسی میکرز کا کہنا ہے کہ خطے میں توانائی شعبے میں اجتماعی تعاون کے لئے ایران کے ساتھ موجودہ گیس منصوبے کی جلد تکمیل ناگزیر ہے.
انہوں نے پاکستان میں آئندہ بڑھتی ہوئی گیس قلت پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ گیس منصوبوں کے باوجود 2022 سے 2023 تک گیس کی ترسیل میں اربوں کیوبک فٹ کمی آئے گی.
پالیسی میکرز نے یہ تجویز دی ہے کہ ایرانی گیس منصوبہ 750 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی کی صلاحیت رکھتا ہے لہذا اس منصوبے کو تیزی کی بنیاد پر 24 مہینوں میں کیا جاسکتا ہے.
یاد رہے کہ پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کی جلد تکمیل کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں.
''مہدی ہنردوست'' نے مزید کہا تھا کہ ایران نے پانچ سال پہلے گیس منصوبے سے متعلق اپنی حدود میں پائپ لائن بچھانے کے عمل کو مکمل کیا تاہم پاکستان کی جانب سے کوئی قدم نہ اٹھائے جائے کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا ہے.
انہوں نے کہا کہ قرارداد کے مطابق، پاک ایران گیس منصوبہ دسمبر 2014 کو مکمل ہونا چاہئے تھا جس کی مدد سے پاکستان کو درپیش توانائی کے سنگین مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@