امریکہ میں خاتون ایرانی صحافی کی گرفتاری، برطانیہ میں انوکھا احتجاج

لندن، 19 جنوری، ارنا - برطانیہ میں اسلامی انسانی حقوق کمیشن نے امریکہ میں خاتون ایرانی صحافی ''مرضیہ ہاشمی'' کی بلاجواز گرفتاری کے خلاف بی بی سی کی عمارت کے سامنے پراجکٹر کے ذریعے خاتون کی رہائی کا مطالبہ کیا.

برطانیہ میں قائم اسلامی انسانی حقوق کمیشن کے اراکین نے لندن میں بی بی سی نشریاتی ادارے کی عمارت پر پراجکٹر کے ذریعے خاتون ایرانی صحافی اور پریس ٹی وی کی اینکرپرسن مرضیہ ہاشمی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مواد بھی دیکھایا.
انہوں نے اس احتجاج میں مرضیہ ہاشمی کی امریکہ میں گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے امریکی پولیس کے ناروا سلوک پر کڑی تنقید کی.
انہوں نے اس تصویری احتجاج میں کہا کہ مرضیہ کو رہا کرو، مرضیہ کی گرفتاری کی اصل وجہ امریکی جرائم اور ریاستی جبر کو بے نقاب کرنا ہے.
اس موقع پر کمیشن کے سربراہ مسعود شجرہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مرضیہ ہاشمی کی گرفتاری کے خلاف اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کو خط لکھا ہے.
ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی جھوٹی باتوں اور ٹویٹس کے خلاف رپورٹنگ کو پسند نہیں کرتے.
مرضیہ ہاشمی کے اہل خانہ اور دوستوں کے مطابق، خاتون صحافی جیل میں قابل تشویش ماحول میں ہیں، جبکہ ان کے حجاب اتارے جانے کے علاوہ انھیں پہننے کے لئے ٹی شرٹ دی گئی ہے جبکہ انھوں نے ایک اور ٹی شرٹ سے حجاب کرہی ہیں.
یاد رہے کہ مرضیہ ہاشمی کو گزشتہ ہفتے سینٹ لوئس لبرٹ بین الاقوامی ایئر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد ایف بی آئی کے اہلکاروں نے انھیں واشنگٹن میں موجود جیل میں منتقل کردیا.
خاتون رپورٹر کے اہل خانہ 48 گھنٹوں تک ان کی صورتحال سے لاعلم رہے جبکہ کچھ دن گزرنے کے بعد اہل خانہ کو ان کی گرفتاری سے مطلع کیا گیا.
پریس ٹی وی کے مطابق، مرضیہ ہاشمی نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا.
انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں نے جیل میں منتقلی تک ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جبکہ ان کے سر سے حجاب بھی اتارا گیا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@