ایران جوہری معاہدے کا تحفظ یورپ کیلئے اہم قرار

تہران، 18 جنوری، ارنا - یورپی یونین کے خارجہ تعلقات کے تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کا تحفظ یورپ کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ معاہدہ سیکورٹی معاملات کے پس منظر میں ناگزیر ہے.

'الی گرانمایہ' جو ای سی ایف آر کی رکن اور تجزیہ کار ہیں، نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یورپی ممالک اپنی سلامتی سے متعلق ایران جوہری معاہدے کو اہم سمجھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی بھی حالات میں برقرار رہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور یورپ جوہری معاہدے کو اقتصادی اور تجارتی ثمرات سے بڑھ کر اسے عالمی سلامتی کے لئے غیرمعمولی سمجھتے ہیں. اس معاہدے کے بعد پابندیوں کا خاتمہ کردیا گیا اور ایران کی جوہری سرگرمیاں عالمی ادارے کی نگرانی میں آئیں اور مجموعی طور پر یہ بین الاقوامی سفارتکاری میں ایک بڑی کامیابی ہے.
یورپی خارجہ تعلقات کونسل کی خاتون رکن نے مزید کہا کہ ایران اور مغربی طاقتوں کو اس بات کا علم ہے کہ جوہری معاہدے سے ان کی توقعات پوری طرح میسر نہ ہوئیں مگر دونوں فریقین نے صبر و تحمل سے مسائل پر قابو پالیا. دونوں فریقین اس معاہدے کی کامیابی سے خوش ہیں جبکہ ایران سمیت امریکہ، فرانس، جرمنی، برطانیہ، چین اور روس نے جوہری معاہدے کو مشترکہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا ہے.
انہوں نے کہا کہ آج ایران جوہری معاہدے کے نفاذ کا تیسرا سال ہے مگر دونوں فریقین میں ایک مایوسی نظر آرہی ہے جس کی وجہ سے معاہدے سے امریکہ کی غیرقانونی علیحدگی ہے. جوہری معاہدہ قریب دس سال طویل مذاکرات کا نتیجہ ہے. مغرب کا خدشہ تھا کہ ایران اگر جوہری ہتھیار بنائے گا تو مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی دوڑ لگے گی جبکہ ایران کی یہ کوشش تھی کہ وہ دنیا کو باور کرائے کہ اس کی سرگرمیاں پُرامن ہیں. یورپ بھی اس بات پر مصر تھا کہ یہ معاہدہ ہوجائے تا کہ مشرق وسطی پر جو ممکنہ نئی جنگ کا سایہ منڈلا رہا تھا وہ ٹل جائے.
الی گرانمایہ نے مزید کہا کہ عالمی جوہری ادارے نے 10 بار سے زیادہ ایران کی شفاف کارکردگی پر رپورٹس شائع کی اور یہ واضح طور پر کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عمل کررہا ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ عالمی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے اس معاہدے سے نکل گئے جس سے عالمی سطح پر قانون اور اخلاقایات کی کھلی پامالی نظر آتی ہے.
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے صرف مذاکرات کی کامیابی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس سے دنیا میں سیاسی طور پر ایک نیا منظرنامہ پیش کیا جس کی مدد سے خطے اور عالمی سطح پر ممالک کے درمیان تعلقات میں بحالی پیدا کی. ایران کے دشمن تو چاہتے تھے یہ معاہدے ناکام ہو مثال کے طور پر اسرائیل اور سعودی عرب نے بھی سر توڑ کوششیں کیں کہ جوہری معاہدے کو پوری طرح نقصان پہنچایا جائے. ٹرمپ کی علیحدگی بھی انتہاپسندوں کے لئے ایک تحفہ تھا جن کی یہی خواہش ہے کہ ایران اور یورپ کے درمیان تعلقات کمزور ہوں.
انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں پولینڈ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ کے بلائے گئے اینٹی ایران اجلاس کی میزبانی کرے. نام نہاد امن و سلامتی کے عنوان سے ہونے والی اس نشست کا اصل مقصد ایران کو نشانہ بنانا ہے.
یورپ سمجھتا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات سے دوطرفہ تعاون کو بڑھانے میں ایران کو مایوسی ہوگی جس کے منفی اثرات ہوں گے اسی لئے یورپی یونین نے واضح طور پر ایران مخالف اجلاس کے انعقاد پر اپنی مخالفت کا اعلان کردیا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی علیحدگی کے بعد ایران اور یورپ کوشش کررہے ہیں کہ تمام مسائل کے باوجود جوہری معاہدہ برقرار رہے. اسی دوراں ایران میں سرگرم غیرملکی کمپنیوں پر لگائی جانے والی نئی امریکی پابندیوں میں کمی ہونی چاہئے اور دوسری جانب یورپ بھی ایران سے متعلق مخصوص مالیاتی میکنزم کو یقینی شکل دے.
خاتون تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ چین کو بھی چاہئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی روابط کو وسعت دے اور معاشی مشکلات سے نکلنے کے لئے اس کی مدد کرے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@