دنیا پاک ایران تجارتی تعلقات میں رکاوٹیں ڈالنا بند کرے: پاکستانی وزیرخزانہ

تہران، 16 جنوری، ارنا - پاکستان کے وزیر خزانہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کو اہم تجارتی ہمسایہ ملک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے تجارتی روابط میں رکاوٹیں ڈالنا بند کرے.

" اسدعمر" نے Burke انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ گیارہویں رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامی ایران پاکستان کی سب سے اہم مغربی پڑوسیوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے حکام سے ملاقات کرتے ہیں انھیں اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے حوالے سے اندرونی تجارت کی اہمیت سمیت بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی تجویز دیتے ہیں لیکن سب سے عجیب بات یہ ہے کہ کوئی بھی پاکستان کی اہم مغربی پڑوسی ایران کا ذکر نہیں کرتا ہے۔
انہوں نے دنیا میں دوہری معیار کا رویہ اپنانے میں کمی آنے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تجارتی تعلقات میں بہت رکاوٹیں حائل ہیں جبکہ ہم، ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کے بجائے مشرقی پڑوسیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی تجویز کے مخالف ہیں۔
پاکستانی وزیر خزانہ نے 13 جنوری کو بھی کہا تھا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص ایران، افغانستان اور سعودی عرب کے ساتھ طویل المدتی سٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی اور مذہبی اشتراک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاک ایران تجارتی حجم 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جسے موثر اقدامات کے ذریعے مزید بڑھایا جاسکتا ہے.
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@