ایران نے امریکہ میں پریس ٹی وی کی خاتون رپورٹر کی گرفتاری کی مذمت کردی

تہران، 16 جنوری، ارنا - ترجمان ایرانی دفترخارجہ نے ایران کے انگریزی نیوز چینل پریس ٹی وی کی خاتون اینکر پرسن اور رپورٹر ''مرضیہ ہاشمی'' کی امریکہ میں گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری آزادی کا مطالبہ کیا ہے.

''بہرام قاسمی'' نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے مرضیہ ہاشمی (Melanie Franklin) کی گرفتاری اور ان کے ساتھ ناروا سلوک غیرقانونی ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ایک مسلمان خاتون امریکی شہری کو بغیر کسی مقدمے کے گرفتار کرنا اور ان کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے توہین آمیز اور جبر کا رویہ امریکہ میں نسل پرستی اور سیاہ فاموں کے خلاف متعصبانہ رویے کا شاخصانہ ہے.
قاسمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ پریس ٹی وی کی خاتون رپورٹر مرضیہ ہاشمی کو انسانی اصولوں اور قوانین کے مطابق حقوق فراہم کرے اور انھیں غیرقانونی قید سے رہا کیا جائے.
انہوں نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کے خلاف امریکی اہلکاروں کے غیرانسانی سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون رپورٹر اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لئے امریکہ گئیں جہاں انھیں غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا جبکہ ان کے خلاف امریکی اہلکاروں کا سلوک انسانی حقوق اور شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے.
بہرام قاسمی نے بتایا کہ امریکی اہلکاروں کے رویے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ کسی اصول اور قانون کا پابند نہیں بلکہ امریکہ صحافیوں کے لئے ایک خطرناک ملک ہے.
مرضیہ ہاشمی کو گزشتہ دنوں سینٹ لوئس لبرٹ بین الاقوامی ایئر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد ایف بی آئی کے اہلکاروں نے انھیں واشنگٹن میں موجود جیل میں منتقل کردیا.
خاتون رپورٹر کے اہل خانہ 48 گھنٹوں تک ان کی صورتحال سے لاعلم رہے جبکہ کچھ دن گزرنے کے بعد اہل خانہ کو ان کی گرفتاری سے مطلع کیا گیا.
پریس ٹی وی کے مطابق، مرضیہ ہاشمی نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا.
انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں نے جیل میں منتقلی تک ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جبکہ ان کے سر سے حجاب بھی اتارا گیا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@