ایران اورعراقی کردستان کے تعلقات میں مداخلت پر ظریف کا ٹرمپ کو جواب

اربیل، 15 جنوری، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ایران اور عراقی کردستان کے درمیان تعلقات میں امریکی صدر کی مداخلت کرنے پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔

"محمد جواد ظریف" نے عراقی صوبہ اربیل کے دورے پر"رودوا" ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کے حالیہ اظہارات پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے عراقی کردستان کی جانب سے ایران کو تیل کی فروخت کے حوالے سے امریکی صدر کی حالیہ دعوے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عراقی کردستان کے عوام، ہزاروں سال سے پہلے اب تک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن عوام کے درمیان تعلقات جیسے تھے ویسے ہی رہیں گے۔
ظریف نے عراقی عوام کے درمیان اتحاد کی اہمیت اور عراق کی قومی اقتدار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم، بغداد اور اربیل کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں تعلقات کے فروغ کی کوشش کرتے رہیں گے۔
انہوں نے عراقی حکام کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ عراق کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "مسعود بازرانی" اور نچیروان بازرانی"، ہمارے قریبی دوست ہیں اور ہم ان کی کامیابی اور سربلندی کے خواہشمند ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عراقی کردستان میں متحدہ حکومت کے قیام کے ذریعے، اربیل اور عراق کے درمیان تعاون سمیت ایران اور عراقی کردستان کے درمیان بھی تعاوں کے مواقع فراہم ہوجائیں گے۔
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@