ایران کی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مغرب کے دہرے معیار پر تنقید

لندن، 15 جنوری، ارنا - ویانا میں ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ مغربی ممالک نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دہرے معیار کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے.

ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ''کاظم غریب آبادی'' نے مزید کہا کہ مغرب کی دوہری پالیسی سے دہشتگردی کے خلاف عالمی تعاون متاثر ہورہا ہے.
انہوں نے اپنے ایک توئٹر پیغام میں کہا کہ مغربی ممالک کے دہرے معیار سے دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے سے متعلق دنیا میں اجتماعی کوششیں متاثر ہورہی ہیں.
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ایران نے ملک میں اسلامی جمہوریہ کے نظام کے آغاز سے اب تک دہشتگردی کے خلاف جسے بعض ممالک کی حمایت حاصل ہے، جنگ لڑی ہے.
انہوں نے کہا کہ ایرانی شہریوں سے ان امن و سلامتی کے حقوق چھینے گئے. حالیہ برسوں میں چار ایرانی جوہری سائنسدانوں کو قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے چار شہید ہوئے.
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ منافقین پر مشتمل دہشتگرد گروہ نے ہی صرف 17 نہتے ایرانی شہریوں کا قتل عام کیا لیکن اس کے باوجود یہ عناصر بعض مغربی ممالک میں آزادانہ نقل و حرکت کرتے ہیں جس سے دہشتگردی کے خلاف مغربی دہرے معیار نظر آتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی دنیا کے لئے بڑا چیلنج ہے جس سے عالمی استحکام اور اقوام کو بڑے خطرات کا سامنا ہے. حالیہ برسوں میں ایران کے سرحدی اہلکاروں پر متعدد حملے ہوئے اس کے علاوہ بیرون ملک ایران کے سفارتی مراکز بشمول صنعا، بیروت اور پشاور میں دہشتگردوں نے حملہ بھی کیا.
ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں دہشتگردی سے متعلق دہرے معیار کے بجائے مخلص ہو کر میدان میں آنا پڑے گا اور اس لعنت کے خاتمے کے لئے عالمی برادری کی اجتماعی کوشش ناگزیر ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@