خلاء میں سیٹلائٹس بھیجنے پر دیگر ممالک کی رائے کا انتظار نہیں کریں گے: ایران

تہران، 14 جنوری، ارنا – ترجمان ایرانی دفترخارجہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے ترقی کے لئے تمام ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق رکھتا ہے اور اس حوالے سے خلاء میں سیٹلائٹس بھیجنے کیلئے ہم دیگر ممالک کی رائے کا انتظار نہیں کریں گے.

یہ بات "بہرام قاسمی" نے پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس برینفگ کے موقع پر ملکی اور غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے نئے ایرانی سیٹلائٹس کو خلاء میں بھیجنے سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مائک پمپئو اور فرانسیسی حکام کے بیانات سراسر من گھڑت اور غلطی ہیں.
قاسمی نے کہا کہ ایران کی جانب سے سیٹلائٹس کی تیاری ایک سائنسی اقدام ہے اور اسے ملکی ساختہ لانچر کے ذریعے خلا میں بھیجنا دفاعی اور میزائل سرگرمیوں سے مختلف ہے. یہ کوئی عسکری اقدام نہیں بلکہ ایران کو موسمیاتی سائنس کے لئے اس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے.
یاد رہےکہ صدر روحانی نے بھی آج اپنے ایک خطاب میں کہا کہ ایران آئندہ ہفتوں تک ملکی ساختہ لانچر کے ذریعے دو نئے سیٹلائیٹ کو خلا میں بھیجے گا.
ترجمان دفترخارجہ نے پولینڈ میں آئندہ ہونے والی ایران مخالف نشست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی قوم کی عزت اور وقار کے تحفظ پر کسی بھی ملک کی جانب سے ایران مخالف اقدام کا مناسب انداز میں جواب دے گا اور ہم مناسب وقت میں پولینڈ کے اس سفارتی اقدام پر فیصلہ کریں گے.
بہرام قاسمی نے کہا کہ یورپ ایران کے لئے مخصوص مالیاتی نظام کو اب تک نفاذ نہ کرسکا جس پر ایراننے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے.
انہوں نے کہا کہ یورپ اس میکنزم کا نفاذ کا خواہاں ہے مگر یہ منصوبہ اب تک تاخیر کا شکار ہے لہذا ہم یورپی ممالک کے فیصلوں کا انتظار نہیں کرسکتے.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران یورپ کے ساتھ جوہری معاہدے اور مخصوص مالیاتی میکنزم پر مذاکرات کر رہا ہے اور اس میں کوئی غیرمتعلقہ معاملے کو شامل نہیں کیا جاسکتا.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@