کسی کو ایران عراق تعلقات میں دخل اندازی کا حق نہیں ہے: ظریف

بغداد، 13 جنوری، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ایران اور عراق کے مضبوط تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کسی کو دخل اندازی کی اجازت نہیں دیں گے۔

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے عراقی محکمہ خارجہ میں اپنے عراقی ہم منصب "محمد علی حکیم" کے ساتھ ملاقات میں کہی۔
ہونے والی ملاقات کے اختتام کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے صحافیوں کی موجودگی میں ایک مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا۔
اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران عراق تعلقات سے کسی کو نقصان نہیں پہنچے گا لہذا ہم اپنے مشترکہ تعلقات میں کسی بھی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہون نے مزید کہا کہ ہونے والی ملاقات میں 10 مختلف عنوان کے تحت بہت اہم مسائل کے بارے میں مذاکرات کیا گیا اور مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کا ایک مشترکہ موقف ہے۔
ظریف نے کہا کہ اس ملاقات میں، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، تجارتی، سیاحتی، مذہبی اورعتبات عالیات کے شعبوں میں تعاون سمیت علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی تنظیموں میں تعاون سے متعلق مذاکرات کیا گیا۔
انہوں نے "اروند رود" اور "شط العرب" میں جہازرانی اور پانی کے وسائل سے متعلق ایران اور عراق کے درمیان مشترکہ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران اور عراق کے نقطہ نظر سے شام کی سالمیت اور خودمختاری بہت اہمیت کا حامل ہے۔
ظریف نے مزید کہا کہ ایران، عراق کی جانب سے عرب ممالک اور شام کے درمیان تعلقات کی بحالی اور شام کی عرب لیگ کی واپسی کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے ایران اور عراق کی جانب سے یمن میں قیام امن کی کوششوں کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔
انہون نے فلسطینی عوام کی امنگوں کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے نقطہ نظر سے ناجائز صہیونی ریاست کی حمایت، خطے کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق محمد جواد ظریف آج بروز اتوارعراق کے چار روزے دورے پر بغداد پہنچ گئے جہاں اپنےعراقی ہم منصب کے ساتھ ملاقات سمیت، عراق کے صدر "برہم صالح"، وزیر اعظم "عادل عبدالمہدی" اور پارلیمنٹ کے اسپیکر "محمد الحبوسی" کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@