ظریف کا دورہ عراق؛ باہمی تعلقات کی توسیع میں عراقی حکام کا تعمیری رویہ اہم قرار

بغداد، 13 جنوری، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ایران اور عراق کے تعلقات کی توسیع میں عراقی حکام کے مثبت اور تعمیری رویے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ باہمی تعاون کے فروغ کیلئے ہونے والے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے عراقی دارلحکومت بغداد پہنچتے ہی صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے عراقی حکام کی جانب سے ایران پر لگائی گئی امریکی پابندیوں کے خلاف، مثبت موقف اپنانے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ عراق کا مقصد، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کی توسیع کے مواقع کو جائزہ لینا ہے۔
انہوں نے ایران اور عراق کے درمیان مشترکہ تاریخی اور ثقافتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ عراق ہے جس میں عراقی حکام کی تعاون سے دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ کیلئے مناسب اقدامات اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ عراق میں داعش کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بعد امریکہ نے ایران اور عراق کے تعلقات کی توسیع میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی لیکن خوش قسمتی سے دونوں ممالک کی مناسب حکمت عملی سے امریکہ کی یہ کوششیں ناکام رہیں۔
انہوں نے امریکہ کو ایک ہارنے والے گھوڑے جیسا قرار دیتے ہوئے دوسرے ممالک کی تجویز دی کہ ہارنے والے گھوڑے پر شرط نہ لگائیں۔
ظریف نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی، گزشتہ 40 سالوں سے اب تک شکست کھاتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ دورہ عراق میں، عراقی حکام کے ساتھ ملاقاتوں سمیت،عراقی شہر بغداد، سلیمانیہ اور کربلا میں منعقد ہونے والے مشترکہ تجارتی فورم میں شرکت کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران، عراق میں نجی، تکنیکی اور انجینئرنگ شعبے میں سرگرمیوں کی توسیع کی بھر پور کوشش کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق محمد جواد ظریف آج بروز اتوار عراق کے چار روزے دورے پر بغداد پہنچ گئے جہاں اپنےعراقی ہم منصب کے ساتھ ملاقات سمیت، عراق کے صدر "برہم صالح"، وزیر اعظم "عادل عبدالمہدی" اور پارلیمنٹ کے اسپیکر "محمد الحبوسی" کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@