ایران کا خلائی پروگرام بدستور جاری رہےگا: ظریف

تہران، 9 جنوری، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران، امریکی انتباہ کے باوجود اپنے خلائی منصوبوں کو ملتوی نہیں کرے گا۔

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے دورہ بھارت کے موقع پر رائٹرز نیوزایجنسی کے ساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلائی منصوبوں پر تحقیقات اور تجربات کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ کسی بھی بین الاقوامی قانون کے تحت یہ پروگرام منع نہیں کیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی اسلامی جمہوریہ ایران کا فی الحال آپشن ہے لیکن یہ ایران کا واحد آپشن نہیں۔
تفصیلات کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکہ نے ایران پر قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ ایران کی میزائل سرگرمیاں، سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ ایران بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے ایرانی تیل پر لگائی گئی پابندیوں کی ناکامی کے بعد فیصلہ کیا کہ ایران سے متعلق تیل پابندیوں پر 8 ملکوں کو چھوٹ دے۔
ڈونلڈ ٹرمپ جو جنوری 2017 میں بطور امریکی صدر اقتدار میں آئے تھے، نے گزشتہ 8 مئی کو غیرقانونی طور پر ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور اس کے علاوہ ایران پر پرانی پابندیاں عائد کرنے کا بھی حکم جاری کردیا۔.
امریکی صدر کے اس فیصلے کی وجہ سے ایران میں پہلے سے موجود بعض غیرملکی کمپنیاں تذبذب کا شکار ہوئیں مگر اس کے باوجود دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص جوہری معاہدے کے دیگر فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھیں گے۔
امریکی صدر نے ایران کو تنہائی کا شکار کرنے کے لئے اقتصادی دباؤ اور پابندیاں کا طریقہ کار اپنایا ہوا ہے جبکہ ایران نے اپنے وعدوں پر عمل کیا اور عالمی جوہری ادارہ بھی اس بات کی بارہا تصدیق کرچکا ہے۔
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@