ایران جوہری معاہدہ: دوسرے قائم رہے تو ہم بھی رہیں گے: جہانگیری

تہران، 9 جنوری، ارنا – سنیئر نائب ایرانی صدر نے یہ بات واضح کردی ہے کہ اگر جوہری معاہدے کے دوسرے فریق اس پر شفافیت سے عمل کریں اور یورپی کے مالیاتی نظام SPV بھی نافذ ہو تو ایران بھی اس معاہدے میں شامل رہنے میں دلچسپی رکھتا ہے.

اسحاق جہانگیری نے یورپی چینل یورو نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب تک مغربی فریق، جوہری معاہدے پر قائم ہے ہم بھی اس معاہدے کے پابند رہیں گے.
انہوں نے کہا کہ اگر جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے دوسرے فریق اس پر شفافیت سے عمل درآمد کریں تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس پر قائم رہے گا.
جہانگیری نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے تمام وعدوں پر قائم ہے اور عالمی رپورٹس نے بھی ہماری کارکردگی کی تصدیق کی ہے مگر امریکہ بلاوجہ عالمی جوہری معاہدے سے نکل گیا.
انہوں نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے یورپی ممالک بشمول جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے موقف کا ذکر دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک ںے کہا تھا کہ اگر ایران اپنے وعدوں پر کاربند رہے تو وہ بھی اپنے وعدوں پر عملدرآمد کریں گے لہذا ان کو چاہئے کہ چین اور روس کی طرح معاہدے پر قائم رہیں.
نائب ایرانی صدر ںے مزید کہا کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین نے اب تک سفارتی اور سیاسی لحاظ سے اچھا موقف پیش کیا ہے تاہم ان کی جانب سے مناسب عملی اقدامات نہیں کئے گئے.
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو دوسری عالمی جنگ کے بعد آج نازک صورتحال کا سامنا ہے. کیا یورپ امریکی حکومت بالخصوص ٹرمپ انتظامیہ کے بغیر فیصلہ نہیں کرسکتا؟ کیا وہ اپنے عالمی مفادات اور معاہدوں کا دفاع نہں کرسکتا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے اب تک یورپی ممالک کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں دیکھا ہے.
جہانگیری نے کہا کہ اگر چہ ہم یورپی یونین کے عملی اقدامات پر مایوس ہوچکے ہیں مگر امید ہے کہ وہ ایرانی مفادات کے تحفظ کے لئے ایک سنجیدہ اقدام اٹھائے.
اسحاق جہانگیری نے ایران اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خطی حالات بشمول پڑوسی ممالک کی صورتحال ہمارے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ہمار نظر میں علاقائی ریاستوں کی سلامتی اسلامی جمہوریہ ایران کی سلامتی سے منسلک ہے.
نائب ایرانی صدر نے کہا کہ ہم بعض خطی ممالک میں افغان طالبان کی موجودگی پر سنگین اختلافات رکھتے ہیں مگر افغان حکومت کے مفادات کے تحفظ کے لئے کوشش کریں گے.
انہوں نے کہا کہ ایران تمام حالات میں افغان حکومت کی حمایت کرتا ہے لہذا اس حوالے سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کابل حکومت کی درخواست اور ان کے مفادات کی بنیاد پر کئے جائیں گے.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@