ایران سے تعلقات میں بھارت کی سنجیدگی – رمضان علی یوسفی

تہران، 8 جنوری، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ایسے وقت میں بھارت کا دورہ کررہے ہیں جب وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی سرکار ایران کے ساتھ تعلقات کی توسیع کے لئے سنجیدگی سے آگے بڑھ رہی ہے.

ایران اور بھارت کے درمیان مختلف وفود کے دوروں کو ہمیشہ سے خاص اہمیت رہی ہے تاہم ظریف صاحب کا اس وقت دورہ بھارت اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یکطرفہ پابندیوں کے اثرات خطے پر مرتب ہورہے ہیں.
وزیرعظم مودی کی قیادت بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی پالیسی پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بھارت ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے باوجود علاقائی ممالک بشمول اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کا خواہش مند ہے.
بعض ماہرین ایران بھارت تعلقات کو صرف تیل شعبے میں تعاون سے منسلک کرتے ہیں جبکہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے.
بھارت سرکار کی حالیہ پالیسی اور ایران مخالف امریکی پالیسی کے خلاف مقابلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی سیاستدانوں کو خطے میں امریکی حکومت کے منفی کردار کا پوری طرح ادراک ہے.
اس بات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت کو اپنی تیل ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اسے ایران کی ضرورت ہے مگر مودی حکومت کی فعال سفارتکاری سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بھارت خطے کی امن و سلامتی کے خلاف منفی اقدامات پر خاموش نہیں رہ سکتا.
نریندر مودی کی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے یکطرفہ اقدامات کا جوابدہ نہیں بلکہ وہ اپنی تہذیب یافتہ قوم کے سامنے جوابدہ ہے جبکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بھارت جیسی عظیم قوم نے کبھی بھی امریکی حکمرانوں کے نام نہاد امن پسند رویہ اور انسان دوست اقدامات پر یقین نہیں کیا ہے.
تہران اور نئی دہلی کے تعلقات میں حالیہ پیشرفت بالخصوص تجارتی شعبے میں تعاون کی بحالی نہایت اہمیت کا حامل ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ کے اس وقت دورہ بھارت سے بھی اچھے نتائج برآمد ہوں گے.
عالمی تعلقات کے پس منظر میں ماہرین کے لئے جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات میں خودمختاری کا مظاہرہ کریں گےتا کہ نہ صرف دونوں اقوام کے مفادات کو یقینی بنایا جاسکے بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کے انتہاپسند اقدامات کی بھی روک تھام ہوسکے گی.
ایران مخالف امریکی پابندیوں سے رونما ہونے والی صورتحال اور دوسری جانب ایرانی عوام کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لئے بھارتی حکومت کی کوششوں کو ایران بھارت تعلقات میں مثالی مرحلہ قرار دیا جاسکتا ہے.
وزیراعظم نریندر مودی جو بھارت میں ترقی کے سردار سے مشہور ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں.
ماہرین کے مطابق، چابہار بندرگاہ میں بھارتی سرمایہ کاری علاقائی اور عالمی سفارتکاری میں ایران اور بھارت کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرے گی جس کی مدد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید اہم اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@