بھارت کا 'چابہار' میں تجارتی سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز

تہران، 8 جنوری، ارنا - بھارت نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جنوبی بندرگاہ چابہار میں 72 ملین ٹن مکئی کیھپ کی قبرصی کشتی کی آمد کے ساتھ یہاں باضابطہ طور پر تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے.

بھارت کی وزارت جہازرانی کے مطابق، چابہار میں گزشتہ پیر کے روز سے تجارتی سرگرمیوں کا باضابطہ طور پر آغاز کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں 72 ملین ٹن مکئی کھیپ پر مشتمل ایک قبرصی کشتی چابہار میں لنگرانداز ہوئی ہے.
بھارتی بیان کے مطابق، بھارت نے آج سے اسٹریٹجک پورٹ چابہار کے ایک حصے کے انتظامی امور کو سنبھال لیا ہے. گزشتہ 24 دسمبر کو چابہار سہ فریقی معاہدے پر ہونے والی نشست کے تحت بھارتی حکومت نے چابہار کی شہیدبہشتی بندرگاہ کی آپریشنل سرگرمیوں کی ذمہ داری سنبھالی ہے.
یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، بھارت اور افغانستان کے نمائندوں نے گزشتہ دنوں چابہار میں بھارت کے فری پورٹس دفتر کا افتتاح کردیا تھا.
تینوں ملکوں نے دوسال پہلے چابہار بندرگاہ کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے اس معاہدے کو منظور کیا گیا.
چابہار میں 'شہید بہشتی ' بندرگاہ کے منصوبے کی تعمیر کے لئے ایک ارب ڈالر فنڈ کی ضرورت ہے اس حوالے سے بھارت کے ساتھ 85 ملین ڈالر کا معادہ بھی طے ہوا ہے.
چابہار بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبے 5 فیزوں پر مشتمل ہیں. 2008 میں پہلے فیز پر کام شروع ہوا اور اب تک اس کا 45 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے.
چابہار کی شہیدبہشتی بندرگاہ کی گہرائی کی وجہ سے یہاں سپر پوسٹ پینامیکس بحری جہازوں (super post panamax ships ) کے داخلے کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے.
شہید بہشتی بندرگاہ میں کسی مسئلے کے بغیر مصنوعات کی برآمدات اور درآمدات ممکن ہے جبکہ سپر پوسٹ پینامیکس جہاز آسانی سے یہاں لنگر انداز ہوسکتے ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@