ایران اور بھارت امریکہ پابندیوں کی پرواہ کئے بغیر تعلقات بڑھانے کیلئے پُرعزم

تہران، 7 جنوری، ارنا – اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" آج ایک اعلی سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کی قیادت بھارت روانہ ہوں گے.

ترجمان دفترخارجہ "بہرام قاسمی" نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ دورہ بھارت کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ اعلی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ ظریف دونوں ممالک کی مشترکہ نشست اور ریسینا عالمی کانفرنس میں خطاب بھی کریں گے.
بھارتی میڈیا کے مطابق، ظریف اپنی بھارتی ہم منصب "سشما سواراج"، وزیر تیل اور وزیر اعظم "نریندر مودی" کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے.
ایرانی وزیر خارجہ بھارتی ریسرچ سپروائزر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ریسینا نشست میں خطاب کریں گے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مختلف عالمی رہنما پالیسی، تجارتی، میڈیائی اور سول سوسائٹی کے سلسلے میں سالانہ ریسیا کانفرنس نشست میں شرکت کرتے ہیں.
بھارتی میڈیا نے کہا کہ ظریف ایسے وقت میں بھارت کا دورہ کررہے ہیں جب نئی دہلی نے اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات کے حل پر مصالحتی کردار ادا کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اپنے وفد کے ساتھ منگل کے روز بھارتی انڈسٹری کنفڈریشن کی قیادت میں تجارتی نشست میں تقریر کریں گے جس کا مقصد ایران مخالف امریکی پابندیوں کے بعد دوطرفہ تجارت میں بھارتی قومی کرنسی روپے کا استعمال اور بھارت میں ایرانی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کرنا ہے.
اسلامی جمہوریہ ایران اپریل سے جون تک سعودی عرب کے مقابلے میں بھارت کو تیل فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے.
بھارت نے اپریل 2018 میں ایران سے 11 ارب ڈالر تیل اور نان آئل مصنوعات برآمد کی ہیں.
باخبر ذرائع کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ بھارت میں چابہار بندرگاہ میں دونوں ممالک کے تعاون کی توسیع پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا.
چابہار بندرگاہ کو بہارت کی سرمایہ کاری اور افغانستان کی ترقی کی وجہ سے امریک پابندیوں سے چھوٹ ملی ہے.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@