ایران آزاد پانیوں میں امریکی طاقت کو توڑے گا: عرب تجزیہ کار

تہران، 7 جنوری، ارنا – ایک عرب تجزیہ کار نے رائے الیوم اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بحر اقیانوس میں جدید وار شپ فلیٹ بھیجنے کے فیصلے کا مقصد آزاد پانیوں میں امریکی طاقت کو توڑنا ہے.

"عبدالباری عطوان" جو رائے الیوم اخبار کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں، نے اپنے مضمون میں مزید کہا کہ ایران خلیج فارس میں امریکی بحری جہازوں کی موجودگی کے جواب میں ملکی ساختہ وار شپ فلیٹ سہند بحر اقیانوس بھیجے گا جبکہ ایران نے پہلے بھی اپنی میزائل قابلیت سے امریکی پوزیشن کو چیلنج کیا تھا.
انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ "مائک پیمپئو" کل سے مشرق وسطی اور خلیج فارس کے ممالک کے دورے کا آغاز کریں گے اور ان کا مقصد ایران امریکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ایران کے خطرے کو روکنا ہے.
رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر نے کہا کہ ایران کی بلسٹیک میزائل خلائی تحقیقاتی کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی پیشرفت امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث بن گئی ہے. امریکہ ایرانی میزائل پروگرام کو روکنے کے لئے بے بنیاد دعووں کا سہارا لیتا ہے کہ جیسا کہ اس نے ایران پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ میزائل پروگرام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اپنے قائد کے حکم کے مطابق خلیج فارس میں موجود امریکی بحری جہازوں کے جواب میں ایران اپنے جدید بحری جہاز سہند کو بحر اقیانوس بھیجے ہے اور یہ امریکہ کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے.
عرب تجزیہ نگار نے کہا کہ امریکی حکام ایرانی دھمکیوں سے سے پریشان ہیں خاص طور پر جب ایران نے دھمکی دی تھی کہ اگر تیل کی برآمدات منقطع ہوئیں تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کرے گا اسی وجہ سے امریکی صدر نے ایران پر تیل پابندیوں سے متعلق آٹھ ملکوں کو چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@