افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں

تہران، 7 جنوری، ارنا - ایران میں تعینات افغانستان کے سفیر کا کہنا ہے کہ کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہی ملک میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں.

''احمد نور'' نے ارنا نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہماری نظر میں افغانستان میں پائیدار امن و استحکام تک پہنچنے کا مختصر ذریعہ کابل حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہیں.
انہوں نے افغان امن عمل سے متعلق طالبان گروہ کے ساتھ کئے جانے والے حالیہ رابطے بالخصوص ایران طالبان مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان قوم اور حکومت امن کی پیاسی ہیں لہذا ہم اس مقصد کو پانے کے لئے کسی بھی تعمیری تجویز اور عزتمندانہ طریقے کا خیرمقدم کرتے ہیں.
افغان سفیر نے کہا کہ کوئی بھی دوست اور برادر ملک افغانستان میں امن کے قیام کے لئے ہماری مدد کرنا چاہتا ہو یا ماحول فراہم کرنا چاہتا ہو تو ہم اس کا تہہ دل سے شکریہ اور خیرمقدم کرتے ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن و سلامتی سے متعلق کسی بھی تجویز یا منصوبہ افغان عوام اور حکومت کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہئے.
احمد نور نے کہ حکومت اور طالبان کے براہ راست مذاکرات حتمی نتائج تک پہنچنے کے بعد ان پر عمل ہونا چاہئے جس کے مثبت اثرات طویل مدت تک رہیں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ آج اور ماضی کے طالبان میں کوئی خاص فرق نہیں صرف اتنا فرق ہے کہ شاید بعض ممالک ماضی میں طالبان سے خوفزہ تھے مگر آج وہ نہیں کیونکہ یہ ممالک اب طالبان کو افغانستان کا ایک حصہ سمجھتے ہیں مگر ہم طالبان کو وہی پرانا طالبان سمجھتے ہیں.
احمد نور کا کہنا تھا کہ شاید بعض ممالک میں یہ خیال کیا جاتا ہو کہ طالبان کے ذریعے افغانستان میں داعش کو پسپا کیا جاسکتا ہے مگر ہماری نظر میں افغانستان میں داعش کا کوئی خطرہ نہیں بلکہ ہم طالبان گروہ کو ہی اصل خطرہ سمجھتے ہیں.
افغان سفیر نے داعش کے دہشتگردوں کی افغانستان منتقلی کے حوالے سے بتایا کہ شام و عراق میں موجود داعش کے دہشتگردوں اور افغانستان میں بنائی جانی والی داعش تنظیم میں فرق ہے. افغانستان میں سامنے آنے والی داعش تنظیم در حقیقت طالبان کے اندر سے ہی نکلی ہے جس نے سفید جھنڈے کو زمین پر رکھ کر کالا جھنڈا لہرایا ہے جبکہ نظریاتی اور مقاصد سے متعلق دونوں گروہوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا.
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا افغانستان میں داعش کی موجودگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے. اس وقت افغانستان میں غیرملکی باشندوں پر مشتمل 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جن میں سے ایک داعش ہے لیکن افغانستان میں بدامنی اور قتل و غارت کے اصل ذمہ دار وہی گروہ ہیں جو طالبان کے نام سے کام کررہے ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@