افغانستان میں قیام امن پر ایران پاکستان تعاون ناگزیر ہے: ایرانی سفیر

اسلام آباد، 5 جنوری، ارنا - پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے افغانستان میں قیام امن سے متعلق علاقائی تجاویز اور تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان امن عمل سے متعلق ایران اور پاکستان کے درمیان تعاون ناگزیر ہے.

''مہدی ہنردوست'' نے اسلام آباد میں ارنا نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران، افغانستان میں قیام امن سے متعلق مشترکہ میکنزم اور کابل حکومت کی تعاون پیشکش کا خیرمقدم کرتا ہے.
انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان خطے میں دو اہم اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک ہیں جن کے درمیان تعاون افغانستان میں قیام امن و استحکام کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے.
ہنردوست نے بتایا کہ ایران اور پاکستان افغانستان میں قیام سلامتی اور سیاسی استحکام کے لئے تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان سیاسی، اقتصادی، عسکری اور سفارتی لحاظ مضبوط ملک ہیں اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے اپنے ہمسایہ ملک افغانستان سے متعلق تعمیری کردار ادا کرسکتے ہیں.
ایرانی سفیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ دوطرفہ تعاون اور علاقائی کوششوں سے خطے میں آئندہ نسلوں کو مضبوط مستقبل فراہم کیا جاسکتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں 40 سال خانہ جنگی اور عدم استحکام کے بعد ایران، پاکستان اور افغانستان اس مشترکہ نقطہ نظر پر پہنچ گئے ہیں کہ فوجی طاقت سے افغان مسئلہ کا حل ممکن نہیں بلکہ یہاں غیرعلاقائی ممالک اور افواج کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کی قیمت یہاں کی قوموں کو چکانی پڑی ہے.
مہدی ہنردوست نے بتایا کہ افغانستان میں بدامنی اور جنگ کے آغاز سے اب تک ایران اور پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے جس سے دونوں ممالک کو معاشی اور سماجی نقصانات بھی ہوئے. افغانستان میں بدامنی سے سرحدوں کی سلامتی متاثر ہوئی اور منشیات اور انسانی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا.
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں قیام و امن سلامتی صرف علاقائی تعاون میں ہے مگر یہاں سے اغیار کی موجودگی کا خاتمہ کرنا ہوگا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ غیرعلاقائی فورسز صرف ہمارے خطے میں بدامن پھیلا رہی ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@