ایران اور پاکستان کے درمیان مذہبی سیاحت میں قابل قدر اضافہ

اسلام آباد، 3 جنوری، ارنا - رواں اسلامی سال کے محرم اور صفر کے مہینوں میں تقریبا 75 ہزار پاکستانی شہریوں نے اسلامی جمہوریہ ایران میں موجود مذہبی مقامات کا سفر کیا جو دونوں ممالک کے درمیان مذہبی سیاحت میں قابل قدر اضافہ ظاہر کرتا ہے.

پاکستان کے معروف انگریزی اخبار ''پاکستان ٹو ڈے'' میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران سے ملحقہ پاکستان تفتان بارڈر میں موجود پاکستان ہاؤس میں سہولتوں اور سیکورٹی میں بھی بہتری آئے گی.
وزارت داخلہ کو جمع کرائی جانے والی دستاویز کے مطابق، پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے وزیراعظم عمران خان کے احکامات پر پاکستان ہاؤس میں زائرین کے لئے فول پروف سیکورٹی اور بہتر سہولیات کو یقینی بنایا.
رپورٹ کے مطابق، اس سے پہلے تفتان بارڈر پر زائرین کو سیکورٹی خدشات کے ساتھ امیگریشن کے حوالے سے بھی بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا.
پاکستانی وزیر مملکت برائے داخلہ نے گزشتہ سال ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں دو بار تفتان کا دورہ کیا اور ان کے مسائل کے لئے احکامات جاری کردئے.
اس حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ نے ایران اور عراق کا سفر کرنے والے زائرین کے لئے چار مہینوں کے اندر اندر بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ایک ٹاسک فورس بھی تشکیل دے دی.
گزشتہ مہینوں میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے بلوچستان ایف سی کے ساتھ مل کر ایران سے واپس آنے والے زائرین کے لئے بہترین سہولتوں کی فراہمی کے لئے کوششیں کیں اور انھی کوششوں کی وجہ سے محرم اور صفر کے مہینوں میں 75 ہزار سے زائد پاکستانی زائرین نے بہ آسانی ایران اور میں موجود مقدس مقامات کا سفر کیا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@