امریکہ اور صہیونیوں کی یونیسکو سے علیحدگی پر ظریف کا طنز

تہران، 2 جنوری، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ اور فلسطین پر قابض کٹھ پتلی صہیونی حکومت یونیسکو کو چھوڑنے کے بعد کرہ ارض سے بھی نکلنا چاہتے ہیں.

''محمد جواد ظریف'' نے ایک ٹوئٹر پیغام میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (یونیسکو) سے امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کی علیحدگی پر طنزیہ ردعمل دیا.
انہوں نے مختلف عالمی معاہدوں اور اداروں بشمول یونیسکو سے امریکہ اور صہیونیوں کی علیحدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اور اس کی کٹھ پتلی صہیونی حکومت شاید کرہ ارض سے بھی نکلنا چاہتے ہیں.
ظریف نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدے، پیرس معاہدے، نفتا اور ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ معاہدے کے بعد امریکہ اور اسرائیل اب یونیسکو سے بھی نکل گئے.
انہوں ںے کہا کہ کیا ایسی کوئی چیز رہ گئی ہے جس سے ٹرمپ اور صہیونیوں کی کٹھ پتلی حکومت نہ نکلے ہوں، شاید کرہ ارض رہ گیا ہو.
امریکہ اور ناجائز صہوینی ریاست نے نئے سال کا آغاز ہوتے ہی اقوام متحدہ کے تعلیم، سائنس اور ثقافت سے متعلق ادارے یونیسکو کو باضابطہ طور پر چھوڑ دیا ہے جس سے ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے شروع ہونے والا وہ عمل مکمل ہو گیا ہے.
امریکہ اور صہیونیوں کا یونیسکو سے نکل جانا اس عالمی ادارے کے لیے ایک دھچکا ہے جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد امن کی ترویج کے لیے قیام کیا گیا تھا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@