یورپ، ایران جوہری معاہدے پر قائم رہے گا: فیڈریکا مغرینی

تہران، 1جنوری، ارنا-یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے سے متعلق یورپی یونین کی بنیادی پالیسی، بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی رپورٹوں کی بنیاد پر ہے جن کی بنا پر ہم اس معاہدے پر قائم رہیں گے۔

یہ بات مغرینی نے نئے عیسوی سال کے پہلے دن کے موقع پر"livemint" نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کو 2018 کے سب اہم واقعات میں قرار دے دیا۔
انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق یورپ کے خصوصی میکنزم کے نفاذ کے بارے میں کہا کہ یورپی یونین کے 28 رکن ہیں جنہیں عالمی برداری کی تعاون سے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے کوشان ہیں۔
مغرینی نے مزید کہا کہ ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق یورپی یونین کی بنیادی پالیسی، بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی مسلسل 13 رپورٹوں کی بنیاد پر ہیں جن کے مطابق ایران، جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں پر شفافیت کے ساتھ عمل کر رہا ہے۔
انہوں نے نئے سال میں ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کے حوالے سے یورپ کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا اسی اقدام سے ہمارا مقصد، یورپ کے اجتماعی امن کی فراہمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال میں بعض افواہیں پھیلائی گئی جن میں کہا گیا تھا کہ یورپ صرف اپنے اقتصادی اور تجارتی مفادات کی بدولت، جوہری معاہدے پر قائم ہے جبکہ بالکل ایسا نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کردیا کہ یورپ کی خواست ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور 2015 میں طے پانے والے معاہدہ بھی بالکل اسی سلسلے میں تھا۔
مغرینی نے اس بات کا اضافہ کیا کہ جوہری معاہدہ، ایران کو جوہری ہتیھار حاصل کرنے سے روک دیتا ہے لہذا مشرق وسطی کی کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہونے کی مہم حاصل کرنے کی خاطر یورپ اس معاہدے پر قائم رہے گا۔
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@