امریکہ شامی تعمیرنو سے بھاگنے کیلئے وہاں سے نکل گیا: امریکی پروفیسر

نیو یارک، 1 جنوری، ارنا - امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ شام میں امریکی موجودگی سے شام کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ملا اسی لئے شام کی تعمیر نو سے بھاگنے کے لئے امریکہ وہاں سے نکل گیا.

پروفیسر ''ڈینیل سیرور'' نے ارنا نیوز کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ ابھی تک شام سے امریکی انخلاء کا طریقہ کار یا نکلنے کا کوئی ٹائم فریم سامنے نہیں آیا جبکہ سینیٹر گراہام کا بھی کہنا ہے کہ امریکی انخلاء کا انحصار حالات کے مطابق ہے.
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ یقین نہیں کہ امریکہ شام سے نکلے گا یا نہیں یا یہ انخلاء کس وقت ممکن ہوگا کیونکہ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی.
امریکی پروفیسر نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی سنجیدہ مشورے یا اپنے مشیروں اور اتحادیوں سے کسی پیشگی مذاکرات کے بغیر یہ فیصلہ کیا جس کے تحت شام سے ہزاروں امریکی فوجی اہلکاروں کو واپس بلایا جائے گا.
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے اس فیصلے سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ واشنگٹن اپنے اتحادی اور مخالفین کے سامنے بے بس ہے. جبکہ امریکی فیصلے سے تہران اور ماسکو خوش ہیں اور دوسری جانب داعش کے دہشتگردوں نے کُردوں کے خلاف نئے حملوں کا آغاز کردیا ہے.
پروفیسر ڈینیل سیرور کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے شام سے اچانک نکلنے کا اعلان کرنے کو ترجیح دی جس کا مقصد شام کی تعمیر نو کے عمل سے بھاگنا تھا، امریکہ جب عراق سے نکل گیا تھا تب عراق میں بھی پوری طرح استحکام نہیں آیا تھا، در حقیقت یہ تمام امریکی صدور کی روائت ہے کہ وہ کسی ملک کی تعمیر نو میں حصہ نہیں لیتے کیونکہ یہ ایک طویل مدت عمل ہے جن میں کافی وقت لگے گا اور خرچہ بھی ہوگا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@