افغانستان کے قیام امن و استحکام کیلئے ایران کی 18سالہ جد وجہد

تہران، 31 دسمبر، ارنا - افغان نیوز ایجنسی 'آوا' کے مطابق،ایران نے افغانستان کی 18 سالہ جنگ کے دوران افغانستان کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے.

آوا نیوز ایجنسی کے جریدے کے مطابق، افغانستان کا استحکام ، ایران کے استحکام کا مترادف ہے۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ دوسرے پڑوسی ممالک کی نسبت ایران اور افغانستان کے مابین اقتصادی تعلقات بے نظیر اور منفرد ہیں.
اس رپورٹ کے مطابق، ایران نے ہمیشہ افغانستان میں امریکی فوج اور دشمنوں کی موجودگی کے باوجود افغان حکومت کا ساتھ دیا ہے.
اس رپورٹ میں آیا ہے کہ ایران کا مقصد افغانستان میں مضبوط حکومت کا قیام، اس ملک سے امریکی فوج کے انخلاء، داعش کا خاتمہ اور پانی کے حقوق اور سرحدی سیکیورٹی کو تحفظ کرنا ہے.
رپورٹ کا کہنا ہے کہ طالبان اور ایران کےدرمیان تعلقات کے مقاصد میں سے ایک داعش کے خلاف جنگ کیلئے افغانستان کی مرکزی حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کردار ادا کرنا ہے لیکن ایران نے اعلان کردیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا مقصد افغانستان کے امن عمل کے سلسلے کو مدد کرنا ہے.
رپورٹ کے مطابق، ہرچند امریکہ نے دہشتگردوں کی حمایت اور خطے میں بدامنی کے قیام کیلئے ایران پر الزام لگایا ہے لیکن اب امریکہ نے بھی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام ایران کے مفاد میں ہے.
تفصیلات کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ایڈمیرل علی شمخانی نے 26 دسمبر کو ایک روزہ سرکاری دورے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل کا دورہ کیا.
اس دورے کے دوران انہوں نے دہشتگردی اور منظم یافتہ جرائم کے خلاف مقابلہ کرنے اور دوطرفہ سیاسی، اقتصادی،مشترکہ سرحدی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر بات چیت کی.
9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@