افغان طالبان وفد کی تہران میں اعلی ایرانی سفارتکار سے ملاقات

تہران، 31 دسمبر، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے افغان طالبان کے ایک وفد کے دورہ ایران کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان وفد کے اراکین نے نائب ایرانی وزیرخارجہ ''سید عباس عراقچی'' کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی.

یہ بات ترجمان دفترخارجہ ''بہرام قاسمی'' نے پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس برینفگ کے موقع پر ملکی اور غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کے ایک وفد نے گزشتہ روز تہران کا دورہ کیا اور وزیرخارجہ کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور سید عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد سے تفصیلی مذاکرات کئے.
ترجمان نے کہا کہ اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ایڈمیرل علی شمخانی کے دورہ افغانستان کے بعد افغان طالبان کا ایک وفد گزشتہ روز تہران آیا.
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کا 50 فیصد حصہ طالبان کے کنٹرول میں ہے جبکہ وہاں بدامنی اور عدم استحکام کے پیش نظر طالبان ایران سے مذاکرات کے خواہاں تھے جبکہ یہ مذاکرات افغان حکومت کی پیشگی اطلاع سے طے پائے.
ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ایران اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا اصل مقصد افغان فریقین کے درمیان امن مذاکرات کی پیشرفت کے لئے مدد فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے افغانستان میں قیام امن و استحکام میں بہتری آسکتی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے، دونوں ممالک ثقافتی اور تاریخی مشترکات بھی رکھتے ہیں اسی لئی ایران نے افغان حکومت کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے بعد امن عمل میں بھی تعمیری کردار ادا کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا تا کہ ہم بھی افغانستان میں قیام استحکام سے متعلق اپنے حصہ کا کردار ادا کرسکے.
یاد رہے کہ ایڈمیرل علی شمخانی گزشتہ ہفتے اپنے افغان ہم منصب کی دعوت پر کابل پہنچے جہاں انہوں نے پہلی بار یہ اعلان کیا کہ افغانستان میں قیام امن کی خاطر ایران اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری رہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@