ایران کی تیزرفتار جنگی کشتیاں جدید اینٹی ریڈار اور میزائلوں سے لیس ہوں گی

تہران، 31 دسمبر، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسداران اسلامی انقلاب فورس (IRGC) کے پاس موجود تیز رفتار جنگی کشتیوں کو ریڈار پر نظر نہ آنے کے نظام اور نئے میزائلوں سے لیس کردیا جائے گا.

یہ بات پاسداران بحریہ کے سربراہ ایڈمیرل ''علی رضا تنگسیری'' نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی.
انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی کی تیز رفتار کشتیوں کو نئے مواصلاتی اور دفاعی نظام سے لیس کردیا جائے گا جن کی مدد سے یہ کشتیاں ریڈار نظام پر نظر نہ آئیں گی اور اس کے علاوہ ان کی دشمنوں کے مقابلے میں میزائل مار کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا.
انہوں نے مزید کہا کہ پاسداران بحریہ میں تیز رفتار ترقی اور کارکردگی ہمیشہ ترجیح رہی ہے جبکہ ایرانی بحریہ سمندری مشن میں انتہائی ذہانت اور تیز رفتاری سے آگے بڑھتی ہے.
اعلی ایرانی کمانڈر نے کہا کہ تیزرفتار جنگی کشتیوں کی رفتار اور ریڈار کی رینج میں آنے کی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جائے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ خلیج فارس میں موجود امریکی کشتی اور بیڑوں پر اسلامی جمہوریہ ایران کی کڑی نظر ہے، آزاد پانیوں میں اغیار کی فورسز تو موجود ہیں مگر ان میں ہماری سمندری حدود میں داخل ہونے کی جرات نہیں.
ایڈمیرل علی رضا تنگسیری کا کہنا تھا کہ غیرعلاقائی فورسز کی خلیج فارس میں موجودگی سے مسائل پیدا ہوں گے جبکہ ایران نے بارھا خلیج فارس کے ممالک اور خطے کی باعزت قوموں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ علاقائی ممالک بشمول ایران اس خطے کو سلامتی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور اپنے تمام مسلم بھائیوں کے آگے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تاہم یہ ان ممالک کے لئے باعث شرمندگی ہے کہ ان کے حکمران اپنی سلامتی کے لئے اغیار سے مدد لیتے ہیں.
یاد رہے کہ مغربی میڈیا نے بتایا تھا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد امریکہ کا پہلاڈ یو ایس ایس جان سی سٹینس 21 دسمبر کو خلیج فارس میں داخل ہوا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@